ایف آئی اے کے جاری بیان کے مطابق، اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر جسم فروشی کے لیے پنجاب سے متحدہ عرب امارات جانے والی 33 خواتین کو کراچی سے گرفتار کیا اور خواتین کو بیرون ملک اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی ڈائریکٹر کراچی زون اور ڈپٹی ڈائریکٹر اے ایچ ٹی سی کراچی کی ہدایات پر عمل میں لائی گئی اور مصدقہ اطلاع پر پاسپورٹ آفس صدر کراچی کے قریب دو ہوٹلوں پر چھاپہ مارا گیا۔
ایف آئی اے نے بتایا کہ کارروائی کے دوران پنجاب کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والی 33 خواتین کو حراست میں لیا گیا اور ان کے ہمراہ انسانی اسمگلرز اور ایجنٹس کو بھی گرفتار کیا گیا۔
کراچی کے علاقے صدر کے ہوٹلوں پر چھاپوں کے دوران دبئی کے نائٹ کلبز کے لیے اسمگل کی جانے والی 32 خواتین بازیاب کرا لی گئیں۔اے آر وائی نیوز کے مطابق ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل نے بین الاقوامی انسانی اسمگلنگ میں ملوث ملزمان کا نیٹ ورک بے نقاب کیا ہے اور خاتون ملزمہ سمیت 4… pic.twitter.com/ZyHZ8QQd4u
— Times of Karachi (@TOKCityOfLights) March 17, 2026
مزید بتایا گیا کہ ملزمان کے قبضے سے 29 پاسپورٹس اور دیگر متعلقہ مواد برآمد ہوا۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ خواتین کو وزٹ ویزے کے بہانے متحدہ عرب امارات بھیجا جا رہا تھا اور ان کا مقصد جسم فروشی اور جنسی استحصال تھا۔
ایف آئی اے نے کہا کہ ملزمان کے خلاف تین الگ الگ مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ مقدمات پریوینشن آف ٹریفکنگ ان پرسنز ایکٹ 2018 کے تحت درج کیے گئے ہیں۔ گرفتار شدگان میں ضیا الحق، امتیاز علی، فرمان علی اور سکینہ بی بی شامل ہیں جبکہ تفتیش جاری ہے۔






