بلڈرز اور تاجروں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھتہ خوروں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ بیرون ملک بیٹھ کر بھتہ خوری میں ملوث عناصر کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا اور اس مقصد کے لیے وفاقی حکومت سے تعاون طلب کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلڈرز اور تاجروں کی شکایات پر فوری کارروائی کی جا رہی ہے اور بھتہ خوری کے خلاف پہلے کی طرح اس بار بھی کامیابی حاصل کی جائے گی۔
دوسری جانب ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) ڈاکٹر عمران نے بتایا کہ بھتہ خوروں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر آپریشنز جاری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ رواں سال اب تک 50 سے زائد بھتہ خور گرفتار کیے جا چکے ہیں جبکہ تقریباً 170 شکایات موصول ہوئیں۔
انہوں نے بتایا کہ جمعہ کی صبح ایک مقابلے میں مارے جانے والے بھتہ خور کے موبائل فون سے تاجروں کے فون نمبرز اور بھتہ طلب کرنے سے متعلق ڈیٹا بھی برآمد کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلڈرز کی نمائندہ تنظیم آباد کی جانب سے جن 10 کیسز کی نشاندہی کی گئی، ان میں سے صرف 3 مقدمات درج ہوئے تھے، جبکہ 5 کیسز سے متعلق کبھی اطلاع نہیں دی گئی، تاہم 2 حالیہ واقعات پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔







