اپنے حالیہ بیان میں انہوں نے کہا کہ چنگ چی رکشوں کو مرکزی شاہراہوں سے ہٹانے کی کوششیں جاری ہیں، جب کہ کراچی میں ہر قسم کے رکشوں کو مرحلہ وار ریگولیٹ کیا جائے گا۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے کہا کہ ای چالان سے متعلق شہریوں کو درپیش مسائل کے پیش نظر انہیں ریلیف دینے کے لیے نئی پالیسی تیار کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ای ٹکٹنگ (ای چالان) سیف سٹی منصوبے کا حصہ ہے، جب کہ شہر میں تقریباً 45 ہزار ایسی گاڑیاں ہیں جو اپنے رجسٹرڈ مالکان کے بجائے دوسرے افراد استعمال کر رہے ہیں۔
پیر محمد شاہ کے مطابق جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں متعلقہ تھانوں کے حوالے کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال دستی طور پر جاری کیے گئے چالان کم ہیں، کیونکہ ای چالان خودکار نظام کے ذریعے جاری ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے بعض اوقات غلطیاں بھی ہو جاتی ہیں۔
ڈی آئی جی ٹریفک کا کہنا تھا کہ ای چالان سسٹم اور لین مارکنگ سے ٹریفک کی روانی میں بہتری آئی ہے، جب کہ چوتھی لین میں سفر کرنے والے موٹر سائیکل سواروں کو بھی ای چالان جاری کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال کراچی میں ہیوی ٹریفک کے حادثات میں 164 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، تاہم مؤثر اقدامات کے باعث اس شرح میں 45 فیصد کمی آئی ہے۔
پیر محمد شاہ نے مزید کہا کہ کراچی میں ٹریفک نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کراچی ٹریفک مینجمنٹ کمپنی بھی قائم کی جا رہی ہے۔






