شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ اور سندھ حکومت کے دیگر متعلقہ ادارے کراچی کے مختلف منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی روڈ پر کئی مقامات پر کارپٹنگ مکمل ہوچکی ہے جبکہ سڑک کو مکمل طور پر موٹربل بنانے کا کام جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی روڈ کو 15 ستمبر تک 100 فیصد موٹربل بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ریڈ لائن منصوبے کے دیگر حصوں پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔ منصوبے کے تحت پلوں اور کلورٹس کی تعمیر کا کام بھی جاری ہے۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ یلو لائن منصوبے پر بھی کام جاری ہے اور سندھ حکومت کی ترجیح ہے کہ کراچی کے شہریوں کو جدید، محفوظ اور بہتر پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی جائے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت مزید بڑی تعداد میں اسٹیل ڈبل ڈیکر بسیں خریدنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ شہریوں کے لیے ٹیکسی سروس بھی جلد دستیاب ہوگی۔

ان کے مطابق 500 الیکٹرک بسوں کی خریداری کے لیے معاہدے کیے جاچکے ہیں اور ان بسوں کے آرڈرز بھی دے دیے گئے ہیں، جو عنقریب کراچی کے شہریوں کو دستیاب ہوں گی۔ بائیکس اور اسکوٹرز کی فراہمی کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ٹرانسپورٹ کے شعبے کے ساتھ ساتھ صحت، تعلیم، توانائی اور ہاؤسنگ سمیت مختلف شعبوں میں بھی بڑے منصوبوں پر کام کر رہی ہے، حکومت کا مقصد صرف منصوبوں کا اعلان کرنا نہیں بلکہ ایسے اقدامات کرنا ہے جن کا براہ راست فائدہ شہریوں کو پہنچے

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ میں ہاؤسنگ منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے، بڑی تعداد میں گھر مکمل ہوچکے ہیں اور لاکھوں خاندان ان گھروں میں رہائش پذیر ہیں

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ حکومت کا ہاؤسنگ منصوبہ دنیا کے بڑے ہاؤسنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے، شاہراہ بھٹو کی تکمیل کے بعد روزانہ ہزاروں شہری اس اہم شاہراہ سے استفادہ کر رہے ہیں

صوبائی وزیر نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں بھی سندھ حکومت مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے عالمی معیار کے منصوبے شروع کیے جارہے ہیں

تھر کے کوئلے سے بجلی کی پیداوار کا ذکر کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ تھر کول منصوبہ پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے

ان کا کہنا تھا کہ تھر کے کوئلے سے اس وقت ساڑھے تین ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کی پیداوار میں مدد مل رہی ہے، یہ منصوبہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے اور مستقبل میں ملک کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ کوئلہ برآمد کرنے کی صلاحیت بھی فراہم کرسکتا ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ تھر کول منصوبہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے اور صدر آصف علی زرداری، سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اس منصوبے کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا۔

صوبائی وزیر نے پیپلز پارٹی کی سیاسی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2008 کے بعد سندھ میں پارٹی کی نشستوں میں مسلسل اضافہ ہوا اور 2013، 2018 اور 2024 کے انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی نے اپنی پوزیشن مضبوط کی

انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام باشعور ہیں اور وہ دیکھتے ہیں کہ مشکل وقت میں کون ان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، سیلاب، قدرتی آفات، زرعی بحران یا دیگر مشکل حالات میں پیپلز پارٹی عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔

شرجیل میمن نے بتایا کہ سندھ حکومت نے رواں سال گندم کی کاشت کے لیے 20 ارب روپے مختص کیے ہیں جبکہ کسانوں کو مفت بیج بھی فراہم کیے گئے ہیں، ان اقدامات کا مقصد گندم کی پیداوار بڑھانا اور کسانوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے

شرجیل انعام میمن نے اعتراف کیا کہ کراچی میں اب بھی بجلی، پانی، سیوریج اور دیگر شہری مسائل موجود ہیں، کراچی جیسے بڑے میٹروپولیٹن شہر میں ترقیاتی کام کرنا ایک پیچیدہ عمل ہے، تاہم سندھ حکومت ان مسائل کے حل کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ روزانہ کی بنیاد پر کراچی کے مسائل کے حوالے سے اجلاس کرتے ہیں اور شہر کے معاملات کی ذاتی طور پر نگرانی بھی کررہے ہیں

صوبائی وزیر نے کہا کہ میڈیا کو جہاں حکومت کی کارکردگی میں خامی نظر آئے، اسے ضرور اجاگر کرنا چاہیے، خرابیوں کی نشاندہی حکومت کو اصلاحات اور بہتری کا موقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ ہر چیز مکمل طور پر درست ہے تو وہ عوام کو گمراہ کررہا ہے، کیونکہ ہر شہر اور صوبے کو مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا رہتا ہے

شرجیل میمن نے سندھ کے بلدیاتی نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات کرائے گئے اور عوام کو مقامی سطح پر نمائندگی کا حق دیا گیا

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دیگر صوبوں میں شکست کے خوف سے بلدیاتی انتخابات کرانے سے گریز کیا جارہا ہے، جبکہ الیکشن کمیشن متعدد مرتبہ بلدیاتی انتخابات کرانے کی ہدایات دے چکا ہے

ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں میئرز اور بلدیاتی نمائندے موجود ہیں اور مقامی حکومتوں کے ذریعے عوام کو اختیارات منتقل کیے گئے ہیں۔

شرجیل انعام میمن نے کراچی کے ماضی کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں کراچی کے مختلف سرکاری اداروں میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں کی گئیں اور اس کے نتیجے میں شہری اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی۔

انہوں نے واٹر بورڈ، کے ایم سی، ڈی ایم سیز اور دیگر اداروں میں سیاسی مداخلت اور مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے الزامات بھی عائد کیے۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ماضی میں کراچی میں ہڑتالوں، خوف اور دہشت کی فضا کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور کئی صنعتیں و کاروبار دوسرے علاقوں میں منتقل ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اور سندھ رینجرز کی کارروائیوں کے بعد کراچی میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی اور شہر سے خوف و دہشت کی فضا ختم کرنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اہم کردار ادا کیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ کراچی میں امن کے قیام کے بعد اب توجہ شہر کی ترقی، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ پر مرکوز ہونی چاہیے

شرجیل میمن نے کہا کہ کراچی پاکستان کا اہم معاشی مرکز ہے اور ملک کی معیشت میں شہر کا کردار انتہائی اہم ہے، کراچی کو کامیاب اور ترقی یافتہ بنانا صرف سندھ حکومت نہیں بلکہ تمام متعلقہ اداروں اور شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ شہر میں سرمایہ کاری بڑھے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مثبت پیغام جائے

بانی پی ٹی آئی عمران خان کے معاملے پر بات کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ کوئی بھی شخص بیمار ہو، خواہ وہ سیاسی ہو یا غیر سیاسی، اسے علاج کی سہولت ملنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی جان سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں اور اگر عمران خان کو طبی سہولیات کی ضرورت ہے تو انہیں ضرور فراہم کی جانی چاہئیں

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ سیاسی مخالفت یا ذاتی مفاد کی بنیاد پر کسی بیمار شخص کے علاج میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے، اگر عدالت نے کسی شخص کے علاج یا اہل خانہ سے ملاقات سے متعلق حکم دیا ہے تو اس پر عمل ہونا چاہیے

شرجیل میمن نے سندھ میں ایئرپورٹس اور موٹرویز کے معاملات پر بھی بات کی، حیدرآباد ایئرپورٹ سمیت صوبے کے دیگر ہوائی اڈوں کے حوالے سے بھی سوالات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دیگر صوبوں میں نئے ایئرپورٹس تعمیر کیے گئے جبکہ سندھ میں اس شعبے میں مزید توجہ کی ضرورت ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ موٹروے کوریڈور پورے پاکستان کے لیے اہم ہے اور سندھ میں موٹرویز کی تعمیر کے حوالے سے وفاقی حکومت کو مزید اقدامات کرنے چاہئیں۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ملک میں ہر معاملے پر آئین اور قانون کی پاسداری ضروری ہے۔ ان کے مطابق آئین میں مختلف معاملات کے لیے واضح طریقہ کار موجود ہے اور تمام اداروں و سیاسی جماعتوں کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا مقصد شہریوں کو ان کے جائز حقوق اور بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے اور ٹرانسپورٹ، صحت، تعلیم، توانائی، ہاؤسنگ اور انفرااسٹرکچر کے شعبوں میں جاری منصوبوں کو اسی مقصد کے تحت آگے بڑھایا جارہا ہے۔

صوبائی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ حکومت کراچی سمیت صوبے کے دیگر علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار مزید تیز کرے گی اور شہریوں کو جدید سہولیات کی فراہمی کے لیے دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے گا۔