امتیاز میر کو 24 ستمبر کی شب اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے بھائی محمد صالح کے ہمراہ گاڑی میں گھر واپس جا رہے تھے۔ واقعہ کراچی کے علاقے ملیر کالا بورڈ کے قریب پیش آیا تھا جہاں موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی۔

پولیس کے مطابق امتیاز میر کو تین جب کہ ان کے بھائی محمد صالح کو ایک گولی لگی تھی۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں امتیاز میر کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا۔ چند دن ان کی حالت بہتر رہی، تاہم حلق میں لگی گولی جان لیوا ثابت ہوئی۔

امتیاز میر صحافت کے شعبے میں گزشتہ ایک دہائی سے سرگرم تھے۔ وہ سندھی زبان کے چینل آواز اور اردو چینل میٹرو پر حالاتِ حاضرہ کے پروگراموں کی میزبانی کرتے تھے۔ ان کے ساتھیوں اور صحافتی حلقوں میں ان کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

واقعے کا مقدمہ امتیاز میر کے بھائی ریاض علی کی مدعیت میں تھانہ لانڈھی میں درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں چھ نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے اور مقدمہ دفعہ 324 اور 34 کے تحت درج ہے۔

زخمی محمد صالح کے مطابق یہ حملہ ممکنہ طور پر ذاتی دشمنی کا شاخسانہ ہے، جس کی بنیاد زمین کے ایک پرانے تنازع پر ہے۔ پولیس نے ابتدائی طور پر اس پہلو پر تفتیش کا آغاز کیا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ایک غیر معروف گروہ لشکرِ تہار اللہ حسینی مزاحمت نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تاہم پولیس اس دعوے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔

ڈی آئی جی کراچی فرخ لنجار کے مطابق اکثر اوقات جعلی دعوے سامنے آتے ہیں، اس لیے ہم ہر پہلو سے تفتیش کر رہے ہیں۔ جیو فینسنگ اور ہیومن انٹیلی جنس کی مدد سے تحقیقات آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔

یاد رہے کہ امتیاز میر نے 2022 میں دیگر صحافیوں کے ہمراہ اسرائیل کا دورہ کیا تھا، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔ لیکن اب تک کی تفتیش میں اس پہلو پر کوئی حتمی شواہد سامنے نہیں آئے۔