یہ فیصلہ بدھ کے روز ادارہ نورِ حق میں منعقدہ ضلعی ذمہ داران کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت جماعتِ اسلامی کراچی کے قائم مقام امیر اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن میں قائدِ حزبِ اختلاف سیف الدین ایڈووکیٹ نے کی۔
اجلاس میں کراچی میں شہری سہولیات کی ابتر صورتحال، بالخصوص پانی کے شدید بحران کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے پانی کی فراہمی میں مسلسل تعطل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت، میئر کراچی اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کےڈبلیو ایس سی) کو صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ میئر کراچی، جو واٹر کارپوریشن کے چیئرمین بھی ہیں، شہر میں پانی کے بحران اور شہریوں کو درپیش مشکلات کے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کی جانب سے پہلے دی گئی ڈیڈ لائن کے باوجود پانی کی فراہمی بحال نہیں کی گئی، جس کے باعث جمعہ کو شہر گیر احتجاج کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو کراچی میں ہڑتال کی کال دینے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
مرتضی وہاب کا یہ بیان انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے
— Jamaat e Islami Karachi (@KarachiJamaat) June 1, 2026
کہ اگر نصف سے زائد شہر کو پانی دستیاب نہیں ہورہا ہوتا تو شہر میں دنگا وفساد ہوجاتا،
سندھ حکومت کی رپور ٹ کے مطابق اس وقت کراچی کو پچاس فیصد پانی مل رہا ہے
سیف الدین ایڈوکیٹ, قائم امیر جماعت اسلامی کراچی@Saifuddin_Adv… pic.twitter.com/Slh2k8kmXd
سیف الدین ایڈووکیٹ نے الزام عائد کیا کہ ٹینکر مافیا نے شہر کے آبی نظام پر قبضہ جما رکھا ہے، جس کے باعث شہری مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ پائپ لائنوں کے ذریعے معمول کی فراہمی متاثر ہے۔
انہوں نے کہا کہ شدید گرمی کے دوران پانی کی قلت نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔
اجلاس میں ٹینکر مافیا کی مبینہ سرپرستی، غیر قانونی واٹر کنکشنز اور پانی کی تقسیم کے نظام میں سیاسی مداخلت کی بھی مذمت کی گئی۔
جماعتِ اسلامی نے خبردار کیا کہ اگر پانی کے بحران پر قابو نہ پایا گیا تو شہر میں امن و امان کی صورتحال بھی متاثر ہو سکتی ہے، جب کہ پارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ کراچی کے شہریوں کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔






