نجی ٹی وی کے پروگرام دی رپورٹرز میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ صوبائی خودمختاری کے بعد وفاق صرف پیسہ جمع کر کے صوبوں کو فراہم کرتا ہے، تاہم کراچی لاوارث نہیں رہے گا اور مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
صدر مملکت سے ملاقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری سے ملاقات میں 28ویں ترمیم زیر بحث نہیں آئی۔ انہوں نے کہاکہ 28ویں ترمیم کس شکل میں آئے گی، یہ وقت بتائے گا۔ وفاق کو ہم تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وفاق دنیا سے قرضہ لے کر صوبوں کو فنڈز فراہم کرتا ہے۔ اگر صوبے کارکردگی نہ دکھائیں تو تنقید کا ملبہ اسی پر ڈالا جاتا ہے۔ ملک کے پورے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔
پروگرام کے آغاز میں انہوں نے کہا کہ کیا ملک میں کسی امیر کا بچہ گٹر میں گرتے ہوئے دیکھا گیا؟ دنیا چاند پر پہنچ گئی اور ہم گٹر کے ڈھکن لگانے پر جشن مناتے ہیں۔ جمہوری نظام میں سیاستدانوں نے عوام کو کیا دیا؟ نسل در نسل یہی لوگ اربوں روپے کے مالک بن گئے ہیں، جب کہ غریب کو بنیادی ضروریات جیسے آٹا، چینی، تعلیم، موٹرسائیکل اور دیگر چیزیں درکار ہیں۔
فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ موٹرسائیکل، رکشوں کی فیکٹریاں، بینک اور گاڑیوں کے کارخانے سب سیاستدانوں کے ہیں۔ اسکولز اور بڑے میڈیکل اسپتال بھی انہی کے کنٹرول میں ہیں۔ جنہیں ملک چلانے اور آسانیاں فراہم کرنے کا موقع ملا، وہ امیر طبقات کے افراد ہیں۔ ہماری نااہلی کی وجہ سے غریب کی نسل متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اس نظام نے انسان اور جانور کا فرق ختم کر دیا ہے۔ عام آدمی کی زندگی پچھلے 75 سال میں بد سے بدتر ہوتی چلی گئی ہے۔ نئے پڑھے لکھے نوجوانوں کو نظام میں آنے نہیں دیا گیا اور نسل در نسل غلامی چلتی رہی۔ عدالتی نظام میں اصلاحات نہیں ہوئیں، اور بھرتیاں اپنی مرضی سے کی گئی ہیں۔
سینیٹر واوڈا نے کہاکہ ہماری سیاست نے ملک کو بیٹھا دیا۔ پچھلے 50 سال کے مسائل آج بھی برقرار ہیں۔ نظام اتنا کمزور ہو گیا کہ ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔
انہوں نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہاکہ فیلڈ مارشل نے امید کی کرن بن کر ملک کو مشکلات سے نکالا اور دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔ فوج اور پاک فضائیہ کو سلام ہے کہ انہوں نے جنگ جتوا کر قوم کا حوصلہ بلند کیا۔
انہوں نے کہاکہ اب بلوچستان اور اسلام آباد میں دہشتگردی ہوئی، ہمارے درمیان پھر اتحاد نہیں ہو رہا۔ فوج، پولیس اور عام شہری شہادتیں دے رہے ہیں، پھر بھی تنقید کی جاتی ہے۔ فیلڈ مارشل اور فوج کے خلاف بات کرنے والوں کے ساتھ دہشتگردوں جیسا سخت سلوک ہونا چاہیے۔ صرف مخصوص سیاستدان نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی پر توجہ دی جائے۔






