نجی نشریاتی ادارے ڈان نیوز کے مطابق پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے تصدیق کی کہ 22 اکتوبر کی شام جناح اسپتال لائی گئی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا، جس میں جسم پر متعدد زخموں کے نشانات پائے گئے۔ تاہم موت کی حتمی وجہ رپورٹ آنے تک محفوظ رکھی گئی ہے۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کے مطابق عرفان کو تین دیگر افراد کے ہمراہ ڈکیتیوں میں ملوث ہونے کے شبہے میں حراست میں لیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے فوراً بعد عرفان کی طبیعت خراب ہوئی اور بظاہر دل کا دورہ پڑنے سے وہ دم توڑ گیا۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کا نوٹس لے لیا گیا ہے اور کورنگی کے ایس ایس پی کو انکوائری افسر مقرر کر دیا گیا ہے، جب کہ سی آئی اے ڈی آئی جی سے تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔
ایس آئی یو کے ایس ایس پی امجد احمد شیخ کے مطابق ٹیم نے بدھ کی صبح عائشہ منزل سے چار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا تھا جو بینکوں اور اے ٹی ایمز کی ویڈیوز بنا رہے تھے۔
عرفان کو شام ساڑھے پانچ بجے ایس آئی یو سینٹر لایا گیا، لیکن پندرہ منٹ بعد ہی اس کی حالت بگڑ گئی۔ اسے جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جسم پر دکھنے والے دھبے دراصل خون کی گردش رکنے کے باعث ہیں، تشدد کے نشانات نہیں۔ دیگر تین افراد کا بھی طبی معائنہ کرایا گیا تاکہ کسی تشدد کے امکان کو رد کیا جا سکے۔
واقعے کے بعد ایس آئی یو کے سات اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے جن میں تین اے ایس آئی عابد شاہ، عبدالوحید اور سرفرازاور چار پولیس اہلکار حمایوں، فیاض، وقار اور آصف علی شامل ہیں۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق عرفان کی عمر 30 سال تھی، تاہم اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ وہ صرف 16 سال کا تھا۔
لواحقین کے مطابق عرفان چند روز قبل اپنے آبائی علاقے احمد پور شرقیہ سے روزگار کی تلاش میں کراچی آیا تھا۔ بدھ کی صبح وہ دوستوں کے ساتھ ناشتہ کرنے گیا تھا لیکن اس کے بعد سب لاپتا ہو گئے۔ جمعرات کی شام اہل خانہ کو ایس آئی یو دفتر سے اطلاع ملی کہ عرفان انتقال کر گیا ہے۔
متوفی کے اہل خانہ نے الزام لگایا کہ عرفان کو تشدد کر کے قتل کیا گیا اور وزیر اعلیٰ سندھ و آئی جی پولیس سے انصاف کا مطالبہ کیا۔
سینئر صحافی شاہد جتوئی کے مطابق عرفان کا گھر جنوبی پنجاب کے حالیہ سیلاب میں تباہ ہو گیا تھا، وہ روزگار کی تلاش میں کراچی آیا تھا اور پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔
ان کا دعویٰ ہے کہ بیٹے کی موت کی خبر سن کر عرفان کی والدہ کو دل کا دورہ پڑا۔ صحافیوں اور سماجی حلقوں نے نوجوان کی ہلاکت پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔






