ذرائع کے مطابق 1872 میں نافذ کیے گئے کرسچین میرج ایکٹ 1872 میں 153 سال بعد بنیادی تبدیلیاں متعارف کروانے کے لیے نیا بل تیار کر لیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی اقلیتی برادریوں کی فلاح و بہبود میں خصوصی دلچسپی کے باعث ممکن ہوئی ہے۔ مجوزہ کرسچین میرج ایکٹ 2026 کو پنجاب اسمبلی میں قائمہ کمیٹی برائے اقلیتی امور کے چیئرمین فیلبوس کرسٹوفر نے بطور پرائیویٹ ممبر پیش کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ قانون، جو برطانوی دور سے نافذ ہے، مسیحی برادری کو شادیوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے کئی مسائل سے دوچار رکھے ہوئے تھا، کیونکہ اس کے تحت یونین کونسل اور نادرا میں شادی کی باقاعدہ رجسٹریشن ممکن نہیں تھی۔
پنجاب کے لاکھوں مسیحی خاندانوں کیلئے بڑا ریلیف
— 92 News HD Plus (@92newschannel) April 9, 2026
پنجاب میں مسیحی برادری کے قدیم فیملی قوانین میں تبدیلی کا فیصلہ
1872 میں بنائے گئے کرسچین میرج ایکٹ میں 153 سال بعد بنیادی تبدیلیاں کی جائیں گئیں
صوبے میں انگریز دور کے چلے آرہے کرسچین میرج ایکٹ کے باعث مسیحی برادری شادی بیاہ…
مجوزہ بل کے تحت کئی اہم تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں، جن میں شادی کی کم از کم عمر لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے 18 سال مقرر کرنا شامل ہے، جب کہ پہلے یہ حد بالترتیب 16 اور 13 سال تھی۔ اس کے علاوہ نئے قانون میں یہ بھی شرط شامل کی گئی ہے کہ شادی کے لیے دولہا اور دلہن دونوں کا مسیحی ہونا لازمی ہوگا، جب کہ پرانے قانون میں صرف ایک فریق کا مسیحی ہونا کافی سمجھا جاتا تھا۔
نئے بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ مسیحی شادیوں کو باقاعدہ طور پر یونین کونسل اور نادرا کے ریکارڈ میں درج کرنا لازمی ہوگا، جس سے قانونی اور سماجی پیچیدگیوں میں نمایاں کمی آئے گی۔
مزید برآں، مجوزہ قانون کے تحت صوبے بھر کے تمام رجسٹرڈ گرجا گھروں کو نکاح پڑھانے کی اجازت ہوگی، جب کہ اس سے قبل یہ اختیار صرف مخصوص چرچز تک محدود تھا۔ اسی طرح نکاح کے وقت اور دن کی پابندی بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے مذہبی رسومات کی ادائیگی میں مزید سہولت پیدا ہوگی۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ اصلاحات نہ صرف مسیحی برادری کے دیرینہ مسائل حل کرنے میں مدد دیں گی بلکہ انہیں دیگر شہریوں کے برابر قانونی تحفظ اور سہولتیں بھی فراہم کریں گی۔







