سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں اقرارالحسن نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ایک عام آدمی کے اقتدار کی بات سنتے ہی اشرافیہ اور اس کے گماشتوں کو کس قدر تکلیف پہنچتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امیرزادوں کے گزشتہ اٹھہتر سالہ اقتدار کو چیلنج کر کے  عوام راج  کی بات کرنا اس طبقے کے لیے ناقابلِ برداشت بنتا جا رہا ہے اور مڈل کلاس کو اقتدار دینے کا خواب ان کی راتوں کی نیندیں حرام کر چکا ہے۔

اقرارالحسن نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ موجود رہیں یا نہ رہیں، اب عام لوگوں کو ڈٹ کر کھڑا رہنا ہوگا۔ کسان کے مسائل جاگیرداروں کو ایوانوں میں بھیجنے سے حل نہیں ہوں گے بلکہ اس کے لیے کسی کسان کے بیٹے کو منتخب کرنا ہوگا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسی طرح مزدوروں کی پریشانیاں سرمایہ داروں کو اقتدار دینے سے ختم نہیں ہوں گی، بلکہ مزدور کی اولاد کو آگے آنا ہوگا۔

مزید پڑھیں: بند کمروں کے فیصلوں کا نقصان عوام کو ہورہا ہے، سہیل آفریدی

معروف ٹی وی اینکر نے کہا کہ غریب کی تکلیفیں یہ امیرزادے کبھی دور نہیں کریں گے، اس کے لیے غریب کو خود طاقتور بنانا ہوگا۔ عام آدمی کی زندگی خاص لوگ نہیں بدل سکتے، اگر حقیقی تبدیلی درکار ہے تو ملک میں  عوام راج  قائم کرنا ہوگا۔