سوشل اکاونٹ ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کے حالیہ ریمارکس حقائق کو سیاسی بیانیے کے ذریعے تبدیل کرنے کی ناکام کوشش ہیں، جارحانہ بیانات یا سفارتی دباؤ سے نہ تو کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل کی جا سکتی ہے اور نہ ہی عالمی برادری کے تسلیم شدہ مؤقف کو بدلا جا سکتا ہے۔
وزیر دفاع پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت کے ان بیانات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے کیونکہ وہ زمینی حقائق اور بین الاقوامی قوانین سے مطابقت نہیں رکھتے، مسئلہ کشمیر کئی دہائیوں سے عالمی سطح پر ایک متنازع معاملہ تصور کیا جاتا ہے اور اس کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں واضح رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور دیرپا حل سے وابستہ ہےاور زور دیا کہ کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق، یعنی اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا موقع ملنا چاہیے، کیونکہ یہی بین الاقوامی وعدوں اور قراردادوں کا تقاضا ہے۔
انہوں نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات کو بھی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے دعوے کسی حقیقت پر مبنی نہیں، بھارت خود مختلف ممالک میں ریاستی سرپرستی میں مداخلت، دہشت گردی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے، جن سے متعلق متعدد رپورٹس اور شواہد عالمی سطح پر زیر بحث آ چکے ہیں۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ بھارت کی اشتعال انگیز بیان بازی نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کر سکتی ہے بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے بیانات ذمہ دارانہ سفارت کاری کے تقاضوں کے منافی ہیں اور ان سے غلط فہمیوں اور تصادم کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: بلاول بھٹو کا نواز شریف کو جواب؛ میاں صاحب، کشمور ہو یا کشمیر، دونوں جگہوں کے عوام اپنے حقوق پر ڈاکا نہیں ڈالنے دیں گے
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ مذاکرات، سفارت کاری اور پرامن بقائے باہمی کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے، تاہم ملک اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کی مکمل صلاحیت اور عزم رکھتا ہےاور واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت یا اشتعال انگیزی کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ بھارتی قیادت کی حالیہ سخت بیان بازی دراصل ملک کے اندرونی سیاسی حالات، بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ اور داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، خطے میں امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق اشتعال انگیز بیانات کے بجائے بامعنی مذاکرات اور ذمہ دارانہ سفارتی رویہ اختیار کریں۔







