کشمیر امن جرگہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی ہدایت پر امن جرگہ قائم کیا گیا، جسے اہلِ کشمیر اور بیرون ملک مقیم کشمیریوں نے بھی سراہا۔

انہوں نے بتایا کہ جرگے نے قومی قیادت، آزاد کشمیر کی قیادت اور ریاستی اداروں سے رابطے کیے ہیں اور اس کا مقصد صرف موجودہ صورتحال کا پرامن حل تلاش کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال پر کشمیری عوام اور پورا پاکستان تشویش میں مبتلا ہے، جبکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور ریاستی اداروں کے درمیان مذاکرات کی اطلاعات حوصلہ افزا ہیں۔ انہوں نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کے فیصلے کو بھی خوش آئند قرار دیا۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ آزاد کشمیر کے حالات کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے جوڑنا ایک بڑی غلطی ہوگی، کیونکہ انڈیا گزشتہ 79 برس سے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام پر مظالم ڈھا رہا ہے اور دونوں حالات کا تقابل درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوامی احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے سے ریاست کا منفی تاثر پیدا ہوا، جب کہ آزاد کشمیر حکومت کی ناقص کارکردگی بھی عوامی احتجاج کی ایک بڑی وجہ بنی۔

نائب امیر جماعتِ اسلامی نے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر کے موجودہ حالات پر غیرجانبدارانہ فیکٹ فائنڈنگ مشن تشکیل دیا جائے اور 27 جولائی کو آزاد کشمیر میں شفاف، آزاد اور غیرجانبدار انتخابات یقینی بنائے جائیں تاکہ عوام کو ان کے جمہوری حق سے محروم نہ کیا جائے۔

لیاقت بلوچ نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت پر بھی زور دیا کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے عمل کو کامیاب بنانے میں مثبت کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد اور مقبوضہ کشمیر کی قیادت کو ایک دوسرے سے ملاقاتوں کا موقع ملنا چاہیے۔

انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے رہنما فاروق عبداللہ کی آزاد کشمیر آنے کی خواہش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں آنے کی اجازت دی جائے، تاہم اس سے قبل وہ مقبوضہ کشمیر کی گرفتار سیاسی قیادت کی رہائی کے لیے بھی کردار ادا کریں۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ موجودہ بحرانی کیفیت انتہائی افسوسناک ہے اور اس کی بنیادی ذمہ داری آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت پر عائد ہوتی ہے، جبکہ پاکستانی حکومت اور مقتدر ادارے بھی اس معاملے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔