اتحاد بین المسلمین کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے کہا کہ معاشرے میں بہتری کے لیے علمائے کرام کا اہم کردار ہے، ہم سب متحد ہیں، تمام مذہبی جماعتیں ہماری ہیں۔ علمائے کرام سے رہنمائی کے لیے ہم سب مل کر بیٹھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست اور عوام علمائے کرام کو اپنا رہنما مانتی ہے۔ ہتھیار اٹھانے، بےگناہوں کو نشانہ بنانے اور راستے بند کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ کوئی بھی مذہب دوسروں پر بلاجواز حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا، ایک جماعت کے لیڈر نے کارکنوں کو نہتے لوگوں پر حملوں کے لیے اکسایا، کسی بھی مذہبی جماعت نے اس سے قبل ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال نہیں کیے تھے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کے نام پر پرتشدد احتجاج کرکے عوام کو تکلیف پہنچائی گئی، فلسطینی عوام جشن منارہے تھے اور انتشاری ٹولہ لوگوں پر تشدد کررہا تھا، سکیورٹی اہلکاروں کو غزہ کے نام پر احتجاج کے دوران گولیاں ماری گئیں۔
وزیرِاعلیٰ پنجاب نے الزام عائد کیا کہ احتجاج کے دوران پولیس اور صاف ستھرا پنجاب کی گاڑیوں کو جلایا گیا، شرپسند جماعت نے لوگوں کے ذہنوں کو زہر آلود کیا۔ کسی بھی مذہبی جماعت کو اس سے پہلے کیلوں والے ڈنڈوں اور اسلحوں سے لیس نہیں دیکھا۔ کالعدم جماعت کے دفتر سے کروڑوں روپے اور اسلحہ پکڑا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عشقِ نبیؐ کی اصل روح سمجھانا علماء کی ذمہ داری ہے۔ پرتشدد احتجاج کے دوران ایس ایچ او کو شہید کیا گیا، سی سی ڈی پنجاب میں امن کے لیے بہترین اقدامات کررہی ہے۔ ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت اور تحفظ ہمارا فرض ہے۔ جلاؤ گھیراؤ اور انتشار پھیلانے والی جماعت کو روکنا ریاست کا فرض ہے۔
مزید پڑھیں: ٹی ایل پی سربراہ سمیت 290 رہنماؤں کے نام پی این ایل آئی میں شامل، کون کون سی پابندیاں ہوں گی؟
مریم نواز نے کہا کہ علمائے کرام سے رہنمائی کے لیے آج ہم سب مل کر بیٹھے ہیں، کروڑوں روپے اور اتنی بڑی تعداد میں ہتھیار بتائیں کہاں سے آئے؟ 600 افراد کے جاں بحق ہونے کی جھوٹی خبر پھیلائی گئی، ثبوت آج تک نہیں پیش کیا گیا۔ علمائے کرام پنجاب میں امن و امان کے لیے میرے دستِ بازو بنیں۔
دوسری جانب تمام مکتبِ فکر کے علماء نے امن و امان کے لیے حکومت کا ساتھ دینے کا عزم ظاہر کیا، ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے حکومت کے ساتھ ہیں، امن کے لیے ہمارا بھرپور تعاون حکومت کے ساتھ ہے۔







