ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دیا جا رہا ہے اور 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اب عدالتوں کاازخود نوٹس لینے  کا اختیار ختم ہو جائے گا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کسی کا باپ بھی 18ویں ترمیم ختم نہیں کرسکتا کیونکہ یہ ترمیم تمام جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے منظور کی گئی تھی، جس کے ذریعے صوبوں کو ان کے آئینی حقوق دیے گئے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آج جو آئینی ترامیم پیش کی جا رہی ہیں ان کا مقصد میثاقِ جمہوریت کے وعدوں کی تکمیل ہے۔ ہم میثاقِ جمہوریت کے نامکمل وعدوں کو پورا کر رہے ہیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ماضی میں انڈیا کو عبرتناک شکست دی اور فیلڈ مارشل کی خدمات کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے، اسی لیے اب فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک بار پھر دہشت گردی سر اٹھا رہی ہے، جس کے خلاف پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔ہم نے پہلے بھی دہشت گردوں کو شکست دی اور آئندہ بھی دیں گے۔

اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا صرف یہ کام نہیں کہ اپنے لیڈرکےلیے رونا دھونا رکھے، اپوزیشن کا کام ہے کہ وہ حکومت پر نظر رکھے، اپوزیشن کو قانون سازی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں نے افتخار چوہدری کے سوموٹو بھگتے، اب ہم ماضی کی غلطی درست کر رہے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت اب کوئی ازخود نوٹس نہیں لے سکے گا اور آئینی عدالت میں تمام صوبوں کو برابری کی نمائندگی دی جائے گی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری تجویزماننے پر ہم حکومت کے شکرگزار ہیں، 27ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کرنے والے بھی مانیں گے یہ بڑی کامیابی ہے۔

ان کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی اور چور آیا، چور آیا کے نعرے لگائے گئے۔

 27 ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ آج