ترجمان کے مطابق پاکستان نے اپنی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے دفاعی کارروائی کی، اور اس دوران ہر ممکن کوشش کی گئی کہ عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔

شفقت علی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین، عوام اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

انہوں نے افغان قائم مقام وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے حالیہ بیانات کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان الزامات کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو توقع ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے عملی اقدامات کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان چاہتا ہے، اور امید رکھتا ہے کہ وہاں ایک جامع حکومت تشکیل پائے جس میں تمام افغان دھڑے اور نسلی گروہ شامل ہوں۔

شفقت علی خان نے واضح کیا کہ پاکستان نے متعدد بار دہشتگردی کے ٹھوس شواہد افغان عبوری حکومت کو فراہم کیے ہیں، لہٰذا امیر خان متقی کا یہ کہنا درست نہیں کہ دہشتگردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔

انہوں نے افغان حکومت کے ترجمان کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ افغان عہدیداروں کو پاکستان کے داخلی معاملات پر تبصرہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور اپنی توجہ اپنے ملک کے اندرونی چیلنجز کے حل پر مرکوز رکھنی چاہیے۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے آخر میں کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا، لیکن کسی بھی جارحیت کا جواب مؤثر اور ذمہ دارانہ انداز میں دیا جائے گا۔

افغانستان کے ساتھ سرحدی صورت حال پر دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کسی بھی ملک سے نہ تو کوئی پیشگی فوجی اجازت لی گئی اور نہ ہی گرین سگنل لیا گیا۔ 

’ہم نے صرف دوست ممالک کو موجودہ صورت حال اور اپنے مؤقف سے آگاہ کیا ہے۔‘

انہوں نے بتایا حالیہ جنگ بندی افغانستان کی درخواست پر ہوئی، جو 48 گھنٹوں کے لیے نافذ کی گئی۔ ’اس جنگ بندی کا فیصلہ مکمل طور پر دوطرفہ سفارتی رابطوں کے ذریعے طے پایا تھا۔‘