حکومتِ پنجاب کے مطابق لاہور کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کے معاملے پر اہم پیش رفت ہوئی ہے، اور وزیراعلیٰ مریم نواز نے شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی اصولی منظوری دی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ بسنت کے فوری بعد لاہور کی انتظامی ری اسٹرکچرنگ کا آغاز کیا جائے گا۔ لاہور کی آبادی اور انتظامی دباؤ کم کرنے کے لیے اسے دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جب کہ نئے انتظامی سیٹ اپ کے تحت سروس ڈیلیوری اور گورننس کو بہتر بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ لاہور کی تقسیم کے بعد ڈپٹی کمشنرز، پولیس اور میونسپل نظام الگ الگ ہوں گے۔ شہری سہولیات کی بہتر فراہمی کے لیے لاہور کی انتظامی حدود ازسرِنو متعین کی جائیں گی، جب کہ ٹریفک، تجاوزات اور بلدیاتی مسائل کے حل کے لیے نئی انتظامی تقسیم کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

حکومتِ پنجاب کے مطابق لاہور کی آبادی میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، اور شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے سے عوامی شکایات کے فوری ازالے میں مدد ملے گی۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر متعلقہ محکموں کو تیاری مکمل کرنے کے احکامات بھی دے دیے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے آج ہی عمل مکمل کرنے اور لاہور کو انتظامی بنیادوں پر دو اضلاع میں تقسیم کرنے کی ہدایت کی، جب کہ چند اہم اقدامات کے پیشِ نظر 9 فروری کو دوبارہ اجلاس طلب کر لیا گیا۔ لاہور کی تقسیم کو صوبے میں شہری گورننس اصلاحات کا ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ لاہور کو دو اضلاع میں تقسیم کرنا عوامی سہولت اور بہتر گورننس کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو اضلاع بننے سے سروس ڈیلیوری تیز، مؤثر اور عوام کے قریب ہو جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹریفک، تجاوزات اور بلدیاتی مسائل کا مستقل حل انتظامی ری اسٹرکچرنگ میں ہے۔ لاہور کے شہریوں کو فوری ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور ہر فیصلے کا محور عوام کی سہولت اور شفاف گورننس ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ دو اضلاع بننے سے شکایات کے ازالے کا نظام مزید مؤثر ہو جائے گا، اور واضح کیا کہ لاہور کی تقسیم کوئی سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ خالصتاً انتظامی ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے یہ بھی کہا کہ صوبے کے بڑے شہروں کے لیے جدید اور مؤثر گورننس ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے۔