رواں مون سون سیزن میں پنجاب کے مختلف اضلاع شدید بارشوں، شہری سیلاب، عمارتیں گرنے، کرنٹ لگنے اور دیگر حادثات کے باعث جانی و مالی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس سال مون سون نے پنجاب میں کتنی بارش برسائی؟ سب سے زیادہ نقصان کہاں ہوا؟ کتنے افراد جان کی بازی ہار گئے اور کیا موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے بڑے شہروں کو مزید خطرناک بارشوں کی طرف دھکیل رہی ہے؟

لاہور میں کہاں کتنی بارش ہوئی؟

واسا کے مطابق اس اسپیل میں لاہور ایئرپورٹ کے علاقے میں 263 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو شہر میں سب سے زیادہ تھی۔

دیگر علاقوں میں تاج پورہ میں 157.4 ملی میٹر، کاہنہ میں 143 ملی میٹر، شاد باغ/شادی پورہ میں 136 ملی میٹر، مغل پورہ میں 133 ملی میٹر، مال روڈ پر 116 ملی میٹر، مناواں میں 112.2 ملی میٹر، جوہر ٹاؤن میں 81 ملی میٹر، جب کہ چوک ناخدا میں  64.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

شدید بارش کے باعث ڈی ایچ اے، ہربنس پورہ، تاج پورہ، جلو پارک، صحافی کالونی، کینال روڈ اور دیگر نشیبی علاقے کئی فٹ پانی میں ڈوب گئے، جب کہ متعدد انڈر پاس ٹریفک کے لیے بند کرنا پڑے۔

اگرچہ لاہور میں شہری سیلاب کی صورتحال سب سے نمایاں رہی، تاہم پنجاب کے دیگر اضلاع بھی شدید متاثر ہوئے۔

حالیہ مون سون اسپیل میں متاثرہ علاقوں میں لاہور، راولپنڈی ڈویژن، جہلم، چکوال، گجرات، سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، قصور اور وسطی پنجاب کے کئی اضلاع شامل ہیں، جہاں شدید بارشوں نے مکانات، سڑکوں اور زرعی اراضی کو نقصان پہنچایا۔

رواں مون سون میں کتنے افراد جاں بحق ہوئے؟

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق رواں مون سون سیزن کے آغاز سے اب تک کم از کم 17 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

ان میں 12 افراد چھتیں یا عمارتیں گرنے سے، 2 افراد آسمانی بجلی گرنے سے، جب کہ 3 افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے۔ اس کے علاوہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جب کہ مختلف اضلاع میں درجنوں مکانات کو نقصان پہنچا۔

لاہور میں حالیہ اسپیل کے دوران کیا ہوا؟

لاہور میں شدید بارش کے دوران ڈی ایچ اے کے بعض علاقوں میں پانی انڈر پاس کی چھت تک پہنچ گیا۔ ہربنس پورہ انڈر پاس بند کرنا پڑا۔ تاج پورہ اور دیگر آبادیوں میں گھروں میں پانی داخل ہوگیا۔ کئی گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند ہوگئیں۔

ڈیفنس کے بعض علاقوں میں کشتیوں کے ذریعے آمدورفت کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ کاہنہ میں پھسلن کے باعث موٹرسائیکل حادثے میں دو بھائی جاں بحق ہوئے۔ ڈی ایچ اے فیز فور میں ایک مکان کی چھت گرنے سے چار افراد زخمی ہوئے۔

کیا اس سال مون سون معمول سے زیادہ شدید ہے؟

ماہرین موسمیات کے مطابق حالیہ مون سون میں وقفے وقفے سے انتہائی شدید بارشوں، کلاؤڈ برسٹ جیسے واقعات اور شہری سیلاب کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔

این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ جولائی کے اختتام تک مزید بارشوں کا امکان برقرار ہے، جس کے باعث نشیبی علاقوں، دریاؤں اور برساتی نالوں کے قریب رہنے والوں کو احتیاط کی ضرورت ہے۔

سب سے زیادہ خطرہ کن علاقوں کو ہے؟

اداروں کے مطابق آئندہ دنوں میں سب سے زیادہ خطرہ لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ ڈویژن، جہلم، چکوال، مری اور گلیات سمیت وسطی و شمالی پنجاب کے نشیبی علاقوں کو درپیش رہ سکتا ہے، جہاں شہری سیلاب اور فلیش فلڈنگ کا خدشہ موجود ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کا کردار

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں مختصر وقت میں غیر معمولی بارش، شدید گرمی، گلیشیئر پگھلنے اور اچانک سیلاب کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اگر شہری نکاسیٔ آب کے نظام، تعمیراتی منصوبہ بندی اور ہنگامی انتظامات کو بہتر نہ بنایا گیا تو آئندہ برسوں میں لاہور سمیت بڑے شہروں میں اس نوعیت کے واقعات زیادہ بار پیش آ سکتے ہیں۔