ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا کے مطابق ملزمہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جس نے ابتدائی تفتیش میں گھریلو ناچاقی کی بنا پر اپنے ہی بچوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمہ نے واردات سے قبل بچوں کے والد کو موٹرسائیکل پر کسی بہانے گھر سے باہر بھیجا اور بعد ازاں تیز دھار آلے سے 5 سالہ مومنہ بتول، 4 سالہ مومن رضا اور ڈیڑھ سالہ امہ حبیبہ کو بے دردی سے قتل کر دیا۔
لاہور افسوسناک واقعہ میں بچوں کی ماں ملوث نکلی#ARYNews pic.twitter.com/XQ59XpLqBb
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) April 23, 2026
حکام کا کہنا ہے کہ انویسٹی گیشن اور آپریشنز ونگ کی مشترکہ کوششوں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کم وقت میں ملزمہ کو گرفتار کیا گیا۔ فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد بھی اکٹھے کر لیے ہیں۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مریم نواز شریف اور عبد الکریم نے فوری کارروائی کا حکم دیا تھا، جس کے بعد پولیس نے تیز رفتار تفتیش مکمل کرتے ہوئے ملزمہ کو گرفتار کیا۔
پولیس کے مطابق مقتول بچوں کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دی گئی ہیں، جب کہ ملزمہ کو ٹھوس شواہد کے ساتھ عدالت میں پیش کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کا کہنا ہے کہ معصوم بچوں کے قتل میں ملوث ملزمہ کو ہر صورت کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔







