ترجمان نے بتایا کہ سی سی ڈی کی ٹیم نے دوپہر تقریباً ساڑھے تین بجے اسے ایئرپورٹ سے اپنی تحویل میں لیا اور سڑک کے ذریعے لاہور منتقل کیا جا رہا تھا۔

بیان کے مطابق 11 اکتوبر کی صبح جب ٹیم رحیم یار خان کے علاقے سنجرپور کے قریب پہنچی تو اچانک مسلح افراد نے پولیس کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔

فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس افسر شدید زخمی ہوا، جسے اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ حملہ آور اپنے زیرِ حراست ساتھی طیفی بٹ کو چھڑا کر فرار ہوگئے۔

سی سی ڈی کے مطابق اطلاع ملنے پر مقامی پولیس کی مدد طلب کی گئی۔ صبح تقریباً پانچ بجے پولیس نے دو مشتبہ گاڑیاں دیکھیں اور انہیں روکنے کی کوشش کی تو 20 سے 25 منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ رکنے کے بعد موقع سے ایک شخص شدید زخمی حالت میں ملا جو اسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ اس کی شناخت خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ کے طور پر ہوئی۔

جھڑپ کے دوران ایک اور پولیس اہلکار زخمی ہوا، جسے طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔

پولیس ترجمان کے مطابق سی سی ڈی اور رحیم یار خان پولیس کی ٹیمیں حملہ آوروں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق طیفی بٹ کو دبئی سے انٹرپول کے ذریعے گرفتار کر کے گزشتہ روز پاکستان منتقل کیا گیا تھا۔ دبئی کی عدالت میں پیشی کے دوران قاضی نے اس سے وطن واپسی کے متعلق سوال کیا جس پر اس نے مقدمات کا سامنا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

یاد رہے کہ امیر بالاج ٹیپو، معروف کاروباری شخصیت ٹیپو ٹرکاں والے کے بیٹے تھے، جنہیں 18 فروری 2024 کو لاہور میں ایک شادی کی تقریب کے دوران فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔

تقریب کے دوران حملہ آور کی فائرنگ سے امیر بالاج ٹیپو سمیت تین افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں سے امیر بالاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، جبکہ ان کے محافظوں کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور بھی مارا گیا۔

گزشتہ سال اگست میں اسی کیس کا ایک اور مرکزی ملزم احسن شاہ مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا تھا۔ پولیس کے مطابق احسن شاہ کو نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا جب اس کے ساتھیوں نے حملہ کر دیا، جس دوران وہ زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔

ستمبر 2025 میں جے آئی ٹی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ گوگی بٹ نے امیر بالاج ٹیپو کے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی اور وہ ملزم طیفی بٹ کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا۔

ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی آئندہ سماعت میں گوگی بٹ کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست دائر کرے گی۔

واضح رہے کہ امیر بالاج کے والد ٹیپو ٹرکاں والے کو بھی 2010 میں لاہور ایئرپورٹ پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا جب وہ عمرہ کی ادائیگی کے بعد وطن واپس پہنچے تھے۔