تفصیلات کے مطابق سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ کم عمر ڈرائیونگ کے مسئلے پر فوری گرفتاریوں کے بجائے پہلے عوام میں بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ کم عمر موٹر سائیکل یا گاڑی چلانے والے بچوں کو سخت وارننگ دے کر چھوڑا جائے، تاہم اگر وہ دوبارہ خلاف ورزی کریں تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز چیف ٹریفک آفیسر گوجرانوالہ کی خصوصی ہدایات پر کم عمر ڈرائیونگ اور ٹریفک قوانین کے نفاذ کے لیے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا تھا۔ نوشہرہ ورکاں کے مختلف علاقوں اور مرکزی چوک پر ٹریفک وارڈنز نے ناکے لگا کر کم عمر ڈرائیوروں اور بغیر ہیلمٹ سفر کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب بھر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 24 گھنٹوں میں کتنے کروڑوں کے جرمانے عائد ہوئے؟
ذرائع کے مطابق بغیر لائسنس، بغیر ہیلمٹ اور کم عمر ڈرائیونگ پر درجنوں موٹر سائیکل سواروں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ متعدد موٹر سائیکلیں پولیس نے تحویل میں لے لیں۔ کارروائی کے بعد تھانہ نوشہرہ ورکاں کے باہر والدین اور شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی، جہاں وہ اپنے کم عمر بچوں اور موٹر سائیکلیں واپس دلوانے کے لیے پولیس سے درخواستیں کرتے رہے۔
ٹریفک وارڈنز کے مطابق یہ مہم شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ کم عمر بچوں کو ہرگز موٹر سائیکل نہ دیں اور خبردار کیا کہ خلاف ورزی کی صورت میں کم عمر ڈرائیوروں کے والدین کے خلاف مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔







