پولیس حکام کے مطابق واقعے کے فوری بعد ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران جائے وقوعہ پہنچ گئے اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ پولیس، ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں، جب کہ پولیس اہلکار ریسکیو ٹیموں کے ہمراہ ملبہ ہٹانے اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف رہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی کرتے ہوئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت جاری کی۔ زخمی بچوں کو فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کاہنہ منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

بعد ازاں فیصل کامران نے تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کا دورہ کیا، زخمی بچوں کی عیادت کی اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کرکے اظہارِ تعزیت کیا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور پولیس اس سانحے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن قانونی، انتظامی اور انسانی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق واقعے کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور قانونی تقاضے مکمل کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

دوسری جانب سیف سٹی کی ڈرون ٹیم بھی موقع پر موجود رہی اور ریسکیو آپریشن میں مسلسل معاونت فراہم کرتی رہی۔ ڈرونز کے ذریعے متاثرہ عمارت اور اطراف کے علاقے کی فضائی نگرانی کی گئی جبکہ لائیو فوٹیج کی مدد سے ریسکیو ٹیموں کو متاثرہ مقامات کی نشاندہی اور سرچ آپریشن میں مدد فراہم کی جاتی رہی۔

ادھر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی عمارت گرنے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے جاں بحق بچوں کے درجات کی بلندی، لواحقین کے لیے صبر جمیل اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

جاں بحق ہونے والوں میں عبداللہ، سلمان، اروج، مہنور، تشبیہ، فواد، ایمان فاطمہ، خدیجہ، اروج، ارتضیٰ، رمشا، علی، ارحم اور دعا شامل ہیں، جن کی عمریں چار سے بارہ سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔