رپورٹ میں یونیورسٹی کی تحقیقی قیادت، جدت پر مبنی اقدامات اور سماجی اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے، جو ادارے کے پاکستان کی نمبر ون خواتین یونیورسٹی ہونے کے مقام کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ رپورٹ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کی بصیرت افروز قیادت اور ادارہ جاتی سرپرستی میں مرتب کی گئی ہے، جس میں 2025 کے دوران یونیورسٹی کی تحقیق، جدت اور کمرشلائزیشن سے متعلق کارکردگی کا جامع مگر مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔


ابتدائی نتائج کے مطابق سال 2025 میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی نے تحقیق، جدت، مسابقتی فنڈنگ کے حصول اور ادارہ جاتی اشتراکات کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی، جس کا اظہار مختلف کلیدی کارکردگی اشاریوں میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں توانائی اور موسمیاتی تبدیلی، سائنس و ٹیکنالوجی، اسٹیم اور خلائی علوم، سماجی علوم اور فنون سمیت اہم تحقیقی شعبوں میں یونیورسٹی کی مؤثر شراکت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ یہ تمام سرگرمیاں اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs 3، 4، 5، 7، 9، 13 اور 17) سے ہم آہنگ ہیں، جو جامع اور پائیدار ترقی کے لیے ادارے کے عزم کو ظاہر کرتی ہیں۔

آفس آف ریسرچ انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن کی یہ ابتدائی سالانہ رپورٹ تحقیق و جدت کے فروغ، خواتین کی قیادت اور معاشرتی ترقی میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے کردار کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔