پتنگ بازی کے شوقین شہریوں نے اندرون شہر میں کرائے پر چھتیں حاصل کر رکھی ہیں، جہاں جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب سے ہی بسنت کی محفلیں سجنا شروع ہو گئی تھیں۔ شہر کے مختلف حصوں میں ڈھول کی تھاپ، موسیقی، روایتی کھانے اور ثقافتی سرگرمیوں نے فیسٹیول کو چار چاند لگا دیے ہیں۔

’بسنت تھیم‘ کے تحت لاہور کو خصوصی انداز میں سجایا گیا ہے، جبکہ شہر کے مختلف مقامات پر میوزک شوز، فوڈ فیسٹیولز، ثقافتی میلوں اور دستکاری کی نمائشوں کا اہتمام بھی کیا گیا ہے، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے۔

بسنت کے بھرپور آغاز پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’’آج لاہور کے آسمان پر صرف پتنگیں نہیں بلکہ خوشیاں اُڑ رہی ہیں۔ شہری اپنی روزمرہ کی پریشانیاں بھلا کر اس ثقافتی تہوار سے لطف اندوز ہوں۔‘‘

انہوں نے زندہ دلانِ لاہور کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بسنت کی خوشیوں میں عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔

جمعے کو جاری بیان میں وزیراعلیٰ پنجاب نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ بسنت کی خوشیاں ذمہ داری کے ساتھ منائیں اور ہر خوشی میں اپنے اردگرد موجود لوگوں کو بھی شریک کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بسنت پنجاب کی ثقافت کا خوبصورت حصہ ہے اور ہمیں اپنی روایات پر فخر ہے، تاہم حفاظت اور قانون کی پاسداری ہر صورت یقینی بنانا ہوگی۔

مریم نواز نے شہریوں کو ہدایت کی کہ بسنت کے دوران موٹرسائیکل کے بجائے حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی مفت پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دیں۔ ان کے مطابق بسنت کے تینوں دن عوام کی مفت آمدورفت کے لیے 419 بسیں دستیاب ہوں گی، جبکہ 60 ہزار سے زائد فری رائیڈز فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین میں 25 نشستوں پر مسافروں کو مفت سفر کی سہولت دی جائے گی، جبکہ میٹرو بس، فیڈر بسیں اور گرین بسیں بھی بلا معاوضہ سروس فراہم کریں گی۔ اس کے علاوہ 6 ہزار یینگو رکشوں پر بھی فری رائیڈز کا انتظام کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے بسنت کے موقع پر حفاظتی اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ صرف مقررہ سائز اور معیار کے مطابق پتنگیں اور ڈور استعمال کی جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ممنوعہ ڈور کے استعمال پر بھاری جرمانے اور طویل قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دھاتی تار، تندی، بلٹ پروف مٹیریل، چرخی اور دیگر خطرناک اشیا کا استعمال مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا گیا ہے، جبکہ سول ایوی ایشن کے حساس علاقوں میں پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہو گی۔ موٹرسائیکل اور موٹرسائیکل رکشوں پر سیفٹی راڈز کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔

انہوں  نے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ صرف رجسٹرڈ مینوفیکچررز اور دکانداروں سے کیو آر کوڈ لگی پتنگیں اور ڈور خریدیں۔ ساتھ ہی دکانداروں سے اپیل کی گئی کہ وہ بالخصوص بچوں کی خوشیوں میں رکاوٹ نہ بنیں اور پتنگیں اور ڈور مہنگے داموں فروخت نہ کریں۔

ان کے مطابق بسنت کے دوران عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے گئے ہیں۔ ہر تحصیل میں 15 محکموں پر مشتمل کوئیک رسپانس ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کریں گی۔

انہوں نے کھلی چھتوں پر پتنگ بازی کے دوران خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر چھت پر منڈیر موجود نہ ہو تو اطراف میں کم از کم نائیلون کی ڈور باندھنا لازم ہوگا، جبکہ حفاظتی انتظامات کے بغیر کھلی چھتوں پر پتنگ بازی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں  نے بتایا کہ بسنت فیسٹیول کے دوران تھرمل ڈرونز کے ذریعے نگرانی جاری رہے گی۔ پولیس، ٹریفک وارڈنز، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے شہریوں کی مدد کے لیے ہمہ وقت موجود ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ بسنت کا تہوار خوشی، ثقافت، ذمہ داری اور مکمل حفاظت کے ساتھ منایا جائے تاکہ یہ خوبصورت روایت آنے والی نسلوں تک محفوظ انداز میں منتقل ہو سکے۔