لاہور کی نجی جامعہ میں طالبہ کی مبینہ خودکشی کی کوشش سے متعلق واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جب کہ پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
لاہور کی یونیورسٹی آف لاہور میں فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کی فرسٹ سمسٹر کی طالبہ نے مبینہ طور پر عمارت کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئیں۔ طالبہ کو فوری طور پر اے جی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں آئی سی یو میں داخل کیا گیا۔
ڈاکٹروں کے مطابق طالبہ کے دونوں ہاتھ اور ٹانگوں میں فریکچر ہوئے ہیں، سر پر بھی شدید چوٹ آئی ہے جبکہ ریڑھ کی ہڈی اور پیٹ کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبہ اس وقت زیرِ علاج ہے اور حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے سے قبل طالبہ نے گھر فون کال بھی کی تھی۔ شواہد اکٹھے کرنے کے لیے فارنزک سائنس ایجنسی کی ٹیم یونیورسٹی پہنچ گئی ہے جبکہ پنجاب پولیس نے بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یونیورسٹی کے رجسٹرار علی اسلم نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے۔ ان کے مطابق طالبہ ایک ذمہ دار اور محنتی طالبہ ہے، اس کی حاضری 90 فیصد سے زائد ہے اور کلاس میں کارکردگی بھی بہتر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبہکی ذہنی کیفیت کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
رجسٹرار کا مزید کہنا تھا کہ ذہنی صحت ایک سنجیدہ اور عالمی مسئلہ بن چکا ہے اور پاکستان بھی اس چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی موضوع پر آج یونیورسٹی میں ایک راؤنڈ ٹیبل کانفرنس منعقد ہونا تھی، جس میں مختلف جامعات کے وائس چانسلرز کو مدعو کیا گیا تھا، تاہم واقعے کے باعث کانفرنس ملتوی کر دی گئی۔
واقعے کے بعد یونیورسٹی کے باہر طلبہ نے احتجاج بھی کیا۔ انتظامیہ کی جانب سے نوٹس جاری کرتے ہوئے تمام تعلیمی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں جبکہ آج اور کل تمام کلاسز آن لائن موڈ میں ہوں گی۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق بچی کی حالت خطرے سے باہر ہے، طالبہ کی حالت تشویشناک ہے، اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹانگیں ہاتھ اور پسلیاں فریکچر ہیں، طالبہ کے سر پر شدید چوٹ آئی ہے۔ طالبہ کی حالت سنبھلنے پر پنجاب انسٹیٹیوٹ آف نیوروسائنسز میں شفٹ کیا جائے گا۔
ڈاکٹر کے مطابق طالبہ کو ہسپتال لائے جانے کے وقت وہ پہلے ہی وینٹی لیٹر پر تھیں اور انہیں سانس لینے کے لیے ٹیوب ڈالی گئی تھی، مریضہ کو شدید نوعیت کی ملٹی پل فریکچرز ہیں جن میں ریڑھ کی ہڈی کے ایل ٹو حصے کا برسٹ فریکچر شامل ہے، دونوں ٹانگیں گھٹنے اور ٹخنے کے اوپر سے ٹوٹی ہوئی ہیں جن میں ایک فریکچر اوپن ہے جس کی فوری سرجری کی گئی۔
مزید یہ کہ مریضہ کی گلاسگو کومہ اسکیل بہت کم ہے جس کا مطلب ہے کہ دماغی چوٹ انتہائی سنگین نوعیت کی ہے اور وہ اس وقت ڈیپ کوما میں ہیں، نہ آواز پر ردعمل دے رہی ہیں اور نہ درد پر، مریضہ اس وقت آئی سی یو میں زیر علاج ہے جہاں نیورو سرجنز، آرتھوپیڈک سرجنز اور جنرل سرجنز کی ٹیم مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔
سی ٹی اسکین کے مطابق دماغ میں اندرونی خون جمع نہیں ہوا اس لیے فی الحال کوئی نیورو سرجیکل پروسیجر نہیں کیا جا رہا اور علاج نرسنگ کیئر اور وائیٹل مانیٹرنگ تک محدود ہے۔
ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ ‘دماغی چوٹ لائف تھریٹننگ ہے اور اس کے نتائج کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں، مریضہ ریکور بھی کر سکتی ہے اور نہیں بھی، زندگی اور موت کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
واقعے کی وجوہات کے بارے میں ڈاکٹر نے کہا کہ فیملی سے ابتدائی بات چیت ہوئی ہے تاہم چھلانگ لگانے کی وجہ گھریلو تھی یا تعلیمی، اس کا تعین پولیس کی تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گا، ہسپتال کا کام مریضہ کا علاج ہے اور وہ اپنی طرف سے بہترین ممکنہ طبی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔







