اجلاس میں سینیٹر طلال چوہدری نے بتایا کہ گاڑیوں کے کالے شیشوں سے متعلق بیرون ملک اضافی فیس عائد کی جاتی ہے، اور اگر کوئی شخص سکیورٹی یا ذاتی پسند کے لیے کالے شیشے استعمال کرتا ہے تو اسے فیس ادا کرنی ہوگی، 10 سال قبل کالے شیشوں کے لیے سرٹیفکیٹ جاری ہوتے تھے لیکن اس کا غلط استعمال ہوا، اور آج کل کالے شیشے ایک فیشن بن چکے ہیں، جبکہ لوگ اسکن کی بیماری کے بہانے بھی پیش کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بسنت 2026: مذہبی اور سیاسی علامت والی پتنگوں پر پابندی، خلاف ورزی پر "سخت سزائیں"

انہوں  نے مزید کہا کہ کالے شیشوں پر 50 ہزار روپے جرمانے کا قانون موجود ہے، اور اس کے باوجود بعض مقامات پر بغیر پالیسی کے لوگوں پر جرمانے عائد کیے گئے ہیں، یہ اقدام قانون کی پاسداری اور سکیورٹی کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔

اجلاس میں کمیٹی کی رکن ثمینہ ممتاز نے کہا کہ ملک میں سکیورٹی کے مسائل موجود ہیں اور پولیس ہر جگہ لوگوں کو محفوظ نہیں کر پا رہی۔ انہوں نے افسوسناک واقعے کا ذکر کیا کہ کچے میں چھ پولیس اہلکاروں نے ایک بچی کے ساتھ زیادتی کی اور سکیورٹی خدشات کی وجہ سے کمیٹی کے ایک رکن بھی شہید ہو چکے ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ریپ دنیا کے ہر ملک میں ہوتے ہیں، لیکن پاکستان کے بڑے شہروں، خاص طور پر لاہور، لندن سے زیادہ محفوظ ہیں۔ تاہم، سینیٹر طلحہ محمود نے اس دعوے پر تحفظ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اپر دیر میں لوگوں کو روک کر ان کے گلے کاٹے جا رہے ہیں، اس کے باوجود ہمیں کہا جا رہا ہے کہ پاکستان لندن اور نیویارک سے زیادہ محفوظ ہے۔

اس اجلاس میں کالے شیشوں کے استعمال، جرمانوں کی قانونی حیثیت اور شہری سکیورٹی کے معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ کمیٹی نے زور دیا کہ کالے شیشے صرف جائز سکیورٹی یا صحت کے حالات میں استعمال ہوں، جبکہ قانون کے مطابق جرمانے سختی سے نافذ کیے جائیں۔