تفصیلات کے مطابق، غلام مرتضیٰ نے شورکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ریسکیو 1122 نے ان کی بیوی اور بیٹی کے گٹر میں گرنے کے واقعے کو فیک قرار دیا، جب کہ ایس ایچ او زین نے تھانے میں ان پر تشدد کیا اور پولیس انہیں مجبور کرتی رہی کہ وہ بیوی اور بیٹی کے غائب ہونے کا اعتراف کریں۔

غلام مرتضیٰ نے بتایا کہ وہ اور ان کا خاندان پیر کے روز لاہور پہنچے اور وہاں چڑیا گھر، بادشاہی مسجد اور پھر داتا دربار گئے۔ دربار پر حاضری دینے کے بعد جب وہ روڈ کراس کر رہے تھے اور رکشہ میں بیٹھنے لگے تو یہ المناک حادثہ پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ میری آنکھوں کے سامنے یہ حادثہ پیش آیا، میری بیوی اور بیٹی مین ہول میں گر گئیں۔ حادثے کے بعد میں نے خود ریسکیو 1122 کو کال کی اور مدد کے لیے پکارا۔

غلام مرتضیٰ نے پولیس کے رویے پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ انہیں بیلٹ اور ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ تشدد کے دوران وہ کلمہ طیبہ پڑھتے رہے مگر کسی نے یقین نہیں کیا اور پولیس مجھ پر تشدد کر رہی تھی، میں نے کہا کہ 100 سال بعد پوچھو گے تو بھی یہی سچ ثابت ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈی آئی جی نے معاملے کا علم ہونے پر ماتحت افسران کو ڈانٹا اور حقائق بتانے پر ایس ایچ او نے انہیں دھمکیاں دیں۔ پولیس جھوٹ بولتی رہی کہ وہ سیف سٹی کے کیمروں میں نظر نہیں آئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس رکشہ میں وہ سوار تھے وہ ان کے کزن کا تھا اور پولیس نے بیان لکھوانے کی کوشش کی کہ رکشہ کسی اور کا تھا۔

ریسکیو اہلکاروں نے کہا کہ لاش اس نالے سے نہیں گزر سکتی، تاہم دورانِ حراست ایس پی صاحب بیوی کی تصویر لے آئے اور غلام مرتضیٰ نے انہیں پہچان لیا۔ بعد میں ڈی آئی جی نے ایس ایچ او زین عباس کو غلام مرتضیٰ پر تشدد کرنے پر سرزنش کی۔

غلام مرتضیٰ نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے ان کی داد رسی کی، لیکن پولیس کا رویہ بیہمانہ تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی شادی 25 اگست 2019 کو ہوئی تھی اور اب ان کا کسی قسم کا کوئی مطالبہ نہیں۔

غلام مرتضیٰ نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے اقدامات پر مشکور ہوں، مجھے ایک کروڑ روپے کی ضرورت نہیں، لیکن ایک کروڑ روپے سے میرے بچوں کو ان کی ماں واپس نہیں مل سکتی۔

یہ بھی پڑھیں: مین ہول میں گرنے والی خاتون کے والد سے سادہ کاغذ پر انگوٹھا لگوانے کا معاملہ، پولیس نے وضاحت پیش کر دی

یاد رہے کہ لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ، داتا دربار کے قریب ایک خاتون اور اس کی بچی سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھیں۔

ابتدائی طور پر پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے اس واقعے کو جھوٹا قرار دیتے رہے اور کہا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، تاہم تقریباً تین گھنٹے بعد خاتون اور 17 گھنٹے بعد بچی کی لاشیں برآمد ہوئیں۔

واقعے کے بعد وزیراعلیٰ مریم نواز پنجاب کے متعلقہ اداروں پر برہم ہوئیں اور کمشنر لاہور، اسسٹنٹ کمشنر، واسا، ایل ڈی اے، ڈپٹی کمشنر لاہور، ٹریفک پولیس اور پولیس کو برابر کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس کے بعد ماں اور بیٹی کے سیوریج لائن میں گرنے کے مقدمے میں نامزد تین ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔