امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کا بزرگ صحافی الطاف حسن قریشی کی کتاب پیارے مولانا کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جو شخص ایک بار مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے افکار و نظریات کو پڑھ لیتا ہے، اسے کسی اور کی تحریروں کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ مولانا کی تحریروں میں ایسا اثر ہے کہ پڑھنے والا اس علم کے نشے سے نکل نہیں پاتا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ مولانا مودودیؒ صرف اپنے وقت کے نہیں بلکہ صدیوں کے مجدد ہیں۔ ان کی تعلیمات نے معاشرے میں فکری اور نظریاتی بیداری کے بیج بوئے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا مودودیؒ کا علم اس لیے منفرد ہے کہ انہوں نے صرف اسلام کو نہیں بلکہ باطل نظریات کو بھی گہرائی سے سمجھا اور اسی علم کی بنیاد پر مدلل جوابات دیے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ مولانا مودودیؒ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے اسلام پر پڑی ملوکیت اور جاہ پرستی کی گرد کو ہٹا کر اصل اسلام لوگوں کے سامنے پیش کیا۔
اُن کا کہنا تھاکہ ساتھ ہی انہوں نے فکر پیش کرنے کے ساتھ اس کے پھیلاؤ کے لیے منظم جماعتی ڈھانچہ بھی تشکیل دیا جمعیت سے وابستہ ہوئے، ترجمان القرآن جاری کیا اور ایک ایسا مرکز قائم کیا جہاں سے اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد منظم انداز میں چل سکے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جو لوگ جماعت اسلامی کو صرف ایک سیاسی جماعت کے طور پر دیکھتے ہیں، وہ دراصل اس کے اصل مقصد سے ناواقف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم انتخابی سیاست میں ضرور حصہ لیں گے چاہے وہ عمل کمزور، اندھا، بہرا یا اسٹیبلشمنٹ کے زیرِ اثر ہی کیوں نہ ہو کیونکہ جماعت اسلامی سے بہتر فی الحال کوئی متبادل موجود نہیں۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ہماری پہچان صرف سیاست نہیں بلکہ ایک تحریک ہے جو فکری بیداری، قلب و نظر کی تبدیلی اور اجتماعی نظام کی اصلاح کے لیے کوشاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی صبر آزما جدوجہد کرنے کا حوصلہ دیتی ہے، شکستوں کے باوجود قائم رہتی ہے، جب کہ دیگر جماعتیں ذرا سی ناکامی پر کئی دھڑوں میں بٹ جاتی ہیں۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جس دن رائے عامہ ہموار ہوگئی، اس دن دیکھنا کون جماعت اسلامی کا مقابلہ کرتا ہے۔ آج ہم چند ہیں تو لوہے کے چنے ثابت ہو رہے ہیں، اگر تعداد بڑھ گئی تو پھر کوئی روک نہیں سکے گا۔
آخر میں حافظ نعیم الرحمٰن نے شرکاء کو اجتماعِ عام بدل دو نظام میں بھرپور شرکت کی دعوت دی۔
تقریب میں نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ، سیکریٹری جنرل امیر العظیم، ڈپٹی سیکریٹری جنرل سید وقاص جعفری، سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی، مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔







