انہوں نے کہا کہ لاہور پاکستان کا دل ہے، ڈیڑھ کروڑ آبادی کا شہر ہے، اس کی میٹروپولیٹن حیثیت ختم کی جا رہی ہے۔ آئین کے مطابق تمام مالیاتی، سیاسی اور انتظامی اختیارات عوامی نمائندوں کو دینے ہوں گے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی دوسری جماعت عوامی ایشو پر بات نہیں کرتی، جماعت اسلامی نیشنل اور انٹرنیشنل ایشوز پر بات کرتی ہے۔ جمہوریت کی نرسری مقامی حکومتیں ہوتی ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے ایسا نظام بنایا ہے جس سے ہارس ٹریڈنگ ہوتی ہے۔ یہ وہ حکمران ہیں جو سینیٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں انسانوں کی منڈیاں لگاتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چار بار ایکٹ میں تبدیلی کی ہے جو نامنظور ہے۔ یہ ایکٹ کے ذریعے الیکشن کو ٹالتے ہیں، چار سے پانچ سال عوام کے کھا گئے ہیں۔ چاروں صوبائی حکومتیں اختیارات دینے کے لیے راضی نہیں ہیں۔

انہوں نے یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں پانچویں بار یہ ایکٹ لے آئے ہیں۔ حکمران خاندان کی اجارہ داری اور اپنے لوگوں کی خوش آمد کو آگے لایا جا رہا ہے۔

انہوں نے اس ریفرنڈم کے بارے میں بتایا کہ یہ ریفرنڈم ہر جگہ ہوگا۔ چیمبرز، کالجز، یونیورسٹیز سمیت مارکیٹوں اور دکانوں سے رائے لی جائے گی۔ ہم اس ریفرنڈم کے رزلٹ کا منصورہ میں 18 جنوری کو اعلان کریں گے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ رزلٹ کی روشنی میں یہ اعلان ہوگا کہ پنجاب اسمبلی کا گھیراؤ کیا جائےاور پنجاب اسمبلی کا گھیراؤ اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک حکومت شقیں تبدیل نہیں کرتی۔

واضح رہے کہ جماعت اسلامی کی جانب سے پنجاب بھر میں بلدیاتی ایکٹ پنجاب کے حوالے سے ریفرنڈم جاری ہے۔