کیمپ میں موٹر سائیکل سواروں کو سموگ سے بچاؤ کے لیے ماسک فراہم کیے گئے، جب کہ ان کی موٹر بائکس کامعائنہ بھی کیا گیا۔ اس موقع پر بائکس کے سائیڈ میررز، انڈیکیٹرز اور دیگر حفاظتی پرزے چیک کیے گئے اور موقع پر موجود مکینکس کی مدد سے خرابیوں کو درست کیا گیا۔

مزید برآں، انڈیکیٹرز اور ہیڈ لائٹس بھی بائیک سواروں میں تقسیم کی گئیں۔


کیمپ کی سب سے نمایاں خصوصیت ایک سمولیٹر تھا، جس میں سموگ جیسا ماحول تخلیق کیا گیا تھا۔ اس کے ذریعے بائیک رائڈرز کو یہ بتایا گیا کہ وہ سموگ کے دوران کن غلطیوں کا ارتکاب کرتے ہیں، جو حادثات کا باعث بن سکتی ہیں۔

اس جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے شہریوں کو تربیت دی گئی کہ سموگ کے دوران محفوظ ڈرائیونگ کیسے کرنی ہے اور اپنی و دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کو کیسے یقینی بنانا ہے۔

اس آگاہی کیمپ کے ذریعے عوام میں سموگ کے نقصانات اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں شعور اجاگر کیا گیا، جب کہ شرکت کرنے والوں میں ماسک اور دیگر حفاظتی سامان مفت تقسیم کیا گیا۔


کیمپ کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے ڈی ایس پی طاہر سندھو، ڈی ایس پی عمر فاروق اور ایس پی صدر ظفر نقوی نے بھی موقع پر وزٹ کیا۔

واضح رہے کہ پنجاب بھر، خصوصاً لاہور میں سموگ کے باعث سانس کی بیماریوں اور ٹریفک حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اسی تناظر میں حکومتِ پنجاب اور متعلقہ ادارے عوام کو اس خطرناک موسمی کیفیت سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔