اہم پریس کانفرنس میں سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکن بالکل مطمئن ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ ایک ٹیسٹ میچ ہے۔ ہمارا لانگ مارچ تقریباً شروع ہوچکا ہے اور ہم ٹاس جیت چکے ہیں، اب ہماری مرضی ہے کہ پہلے بیٹنگ کریں یا بولنگ، یہ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مطالبات منوانے کے لیے لانگ مارچ کر رہے ہیں کیونکہ ہم سیاسی لوگ ہیں۔ دنیا کو بھی ہمارا لیڈر یہی کہتا ہے کہ تمام مسائل ڈائیلاگ کے ذریعے حل ہونے چاہئیں، اسی لیے لانگ مارچ کے بعد بھی مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ دونوں جانتے ہیں کہ اس مرتبہ عوام بڑی تعداد میں باہر نکلیں گے۔ اس بار عوام کی آنکھوں میں جو غصہ اور نفرت ہے، وہ انہوں نے اپنی 18 سے 20 سالہ سیاسی زندگی میں کبھی نہیں دیکھی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اسلام آباد کے گرد کنٹینرز لگانے والوں کو بھی معلوم ہے کہ اصل طاقت عوام کے پاس ہے۔ 4 اکتوبر کو ملک بھر سے عوامی سمندر نکلے گا اور اس روز نکلنے والے لوگ کسی کے کنٹرول میں نہیں ہوں گے۔ عوام پرامن طریقے سے اپنے مطالبات منوائے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پولیٹیکل کمیٹی کے فیصلے سے متعلق متعلقہ قیادت کو آگاہ کردیا گیا ہے اور ان شاء اللہ 4 اکتوبر کو تمام لوگ ایک ہی کنٹینر پر جمع ہوں گے۔ لانگ مارچ ہر صورت 4 اکتوبر کو ہوگا، اسے منسوخ کرنے یا پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ حکومت کے وزرا اور ان کے حامی صحافیوں کی چیخ و پکار بھی اسی سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ 5 اکتوبر کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سالگرہ ہے اور اس دن یوم فتح منائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان لڑائی پیدا کرنا بعض عناصر کے مفاد میں ہے، جب کہ کچھ عناصر چاہتے ہیں کہ ملک میں انتشار رہے تاکہ وہ اپنے مفادات حاصل کرتے رہیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت نے پانچ سال میں ملکی قرضہ 43 ہزار ارب روپے سے بڑھا کر 97 ہزار ارب روپے کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے پاکستان اور پاکستانی عوام کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دی۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر کوئی پاکستان کو توڑنے کی سازش کرے گا تو ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ پاکستان ہمارا ملک ہے اور ہم اس کے دفاع اور استحکام کے لیے کھڑے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے احتجاج کو دہشت گردوں سے جوڑنے کا بیانیہ بنایا جا رہا ہے۔ خدشہ ہے کہ احتجاجی صفوں میں اپنے لوگ داخل کرکے انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے، اسی لیے ہم پہلے ہی خبردار کر رہے ہیں کہ احتجاج کو بدنام کرنے کی کوششیں کی جاسکتی ہیں۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف پرامن ہے اور پرامن رہے گی۔ اگر کوئی غیر قانونی کارروائی کرے گا تو اسے پرامن طریقے سے روکنے کی کوشش کی جائے گی۔ ہم کسی کے خلاف ڈنڈا نہیں اٹھائیں گے، پتھر نہیں اٹھائیں گے اور بندوق نہیں اٹھائیں گے، بلکہ طاقت کے بجائے پرامن طریقے سے لوگوں کو سمجھانے اور روکنے کی کوشش کریں گے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ سکیورٹی اداروں سے کہا گیا ہے کہ اگر کوئی کارروائی کرنی ہے تو قانون کے مطابق کی جائے۔ خیبرپختونخوا کو ملک کے دیگر حصوں سے کاٹنے کے بجائے راستے کھولے جائیں اور خیبرپختونخوا کے عوام کو ملک کے دیگر حصوں سے الگ نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں موجودہ حالات ماضی کے سکیورٹی فیصلوں کا نتیجہ ہیں۔ ان کے بقول بند کمروں میں دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کرنے کے فیصلوں کے بعد خیبرپختونخوا کے مسائل میں اضافہ ہوا، جبکہ صوبے میں آپریشنز اور سکیورٹی صورتحال کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبے کے عوام کے حقوق اور مالی معاملات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ این ایف سی کے حوالے سے خیبرپختونخوا کے حقوق کا بھی خیال رکھا جائے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ملک میں انتشار پیدا کرنے کے بجائے سیاسی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔