لبنانی فوج کے مطابق ہفتے کے روز خاردالی-نبطیہ شاہراہ پر ایک فوجی گاڑی کو اسرائیلی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس میں بریگیڈیئر جنرل وسام صبرا، کیپٹن ایلی خوری اور سپاہی حسین غزال جاں بحق ہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ 17 اپریل کو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں تقریباً روزانہ حملے کر رہی ہے، جس کے جواب میں حزب اللہ بھی کارروائیاں کر رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق مارچ سے اب تک لبنان میں جاری جھڑپوں اور حملوں میں ساڑھے تین ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد شہریوں کی ہے۔

دوسری جانب لبنان کے آرمی چیف جنرل روڈولف ہیکل ہفتے کو پاکستان روانہ ہوئے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ادھر جنوبی لبنان اور مغربی بقاع کے مختلف علاقوں پر رات بھر اسرائیلی حملے جاری رہے، جبکہ حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی افواج کے خلاف راکٹ، ڈرون اور توپ خانے سے حملے کیے ہیں۔

لبنانی وزارت صحت کے مطابق سکسکیہ قصبے پر اسرائیلی حملے میں کم از کم دو افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے، جن میں تین بچے اور ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ شاہابیہ قصبے پر اسرائیلی ڈرون حملے میں مزید دو افراد زخمی ہوئے۔

لبنانی صدر جوزف عون نے فوجی افسران کی ہلاکت کو امن کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا، جب کہ وزیراعظم نواف سلام نے حملے کو "سنگین جرم" اور لبنان کے خلاف حملہ قرار دیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق لبنان، اسرائیل، حزب اللہ، امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی کوششوں کے دوران یہ واقعہ خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، جب کہ تہران پہلے ہی لبنان میں مستقل جنگ بندی کو واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے کی اہم شرط قرار دے چکا ہے۔