ریسکیو 1122 کے مطابق دھماکے میں شہید ہونے والے اہلکاروں میں ایس ایچ او صدر اعظم، کانسٹیبل شاہ بہرام، کانسٹیبل شاہ خالد، کانسٹیبل حاجی محمد، کانسٹیبل گل زادہ اور کانسٹیبل سخی زادہ شامل ہیں، جب کہ کانسٹیبل انصاف الدین شدید زخمی ہوئے ہیں۔
ریسکیو 1122 کے مطابق دھماکے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور شہید ہونے والے اہلکاروں اور زخمی کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
لکی مروت:-فتنہ الخوارج کی بزدلانہ کارروائی.
— KP Police (@KP_Police1) March 13, 2026
فتنہ الخوارج کاخیبر پختونخوا پولیس پر ایک پھر بزدلانہ حملہ
بیٹنی کے علاقے میں پولیس پر آئی ای ڈی حملہ،7 پولیس اہلکار شہید ہوگئے. pic.twitter.com/qXK3Sm7GNY
دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے لکی مروت میں پولیس وین کے قریب شدت پسندوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت پُرعزم ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھی لکی مروت میں پولیس گاڑی کے قریب دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے آئی جی پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کی اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ ساتھ ہی زخمیوں کی جلد صحت یابی، شہدا کے بلند درجات اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں ایس ایچ او سمیت چھ پولیس اہلکاروں کی شہادت انتہائی افسوسناک ہے۔ صوبائی حکومت شہدا کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیاں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی لکی مروت میں پولیس گاڑی کے قریب دہشت گردی کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے ایس ایچ او سمیت دیگر پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کے لواحقین سے ہمدردی اور تعزیت کی۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی لکی مروت کے قبائلی سب ڈویژن میں پولیس گاڑی پر ہونے والے آئی ای ڈی دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر ایسے بزدلانہ حملوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔
یاد رہے کہ لکی مروت میں گزشتہ چند دنوں کے دوران تشدد کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
سنیچر کے روز لکی مروت کے علاقے منجیوالہ کی ایک مارکیٹ میں دھماکے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق جبکہ دس زخمی ہو گئے تھے۔ زخمیوں میں ایک پولیس امن کمیٹی کے سربراہ کے بھائی بھی شامل بتائے گئے تھے۔
اس واقعے کے بعد اتوار کے روز منجیوالہ روڈ کے قریب دو افراد کی لاشیں ملی تھیں۔ پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ دونوں افراد مقامی طور پر ایک کالعدم تنظیم کے کمانڈر کے بھائی تھے۔
*وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا لکی مروت میں پولیس گاڑی کے قریب دھماکے کا نوٹس، واقعے کی شدید مذمت* pic.twitter.com/nqrP5FfiPy
— Information Department KP (@infokpgovt) March 13, 2026
اسی طرح سوموار کے روز تاجہ زئی کے علاقے سے بھی ایک نامعلوم شخص کی لاش ملی تھی، جس کی شناخت کے لیے کوششیں جاری تھیں۔
ضلعی پولیس افسر نذیر خان کا کہنا تھا کہ ان تمام واقعات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ان تحقیقات کے دوران منگل کے روز تختی خیل کے علاقے میں ایک کواڈ کاپٹر کے ذریعے آبادی پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں پانچ بچیاں زخمی ہو گئیں۔
کشیدگی کے اسی ماحول میں گزشتہ روز جمعرات کو تختی خیل قوم اور مقامی شدت پسند عناصر کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں، جس کے بعد پولیس اور مقامی امن کمیٹی کے ارکان بھی موقع پر پہنچ گئے تھے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق اس علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی گئی، جس میں چار شدت پسند ہلاک ہوئے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈی پی او نذیر خان بھی اس آپریشن میں شریک تھے، جبکہ کارروائی کے دوران شدت پسند اپنی موٹر سائیکلیں اور دیگر سامان چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔
لکی مروت میں ان حالات پر مقامی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آج جمعہ کے روز نمازِ جمعہ سے قبل پولیس موبائل کو آئی ای ڈی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں چھ پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے۔






