اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اویس لغاری کا کہنا تھا کہ خطے کی موجودہ صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو گیس کی قلت کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں بعض پاور پلانٹس مطلوبہ صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر پا رہے۔
انہوں نے کہا کہ دن کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی، تاہم پیک آورز میں گیس کی کمی کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ یہ صورتحال عارضی ہے اور حکومت اس پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزیرِ توانائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی کے باعث ایل این جی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ تاہم امید ہے کہ سفارتی کوششوں کے باعث جلد گیس سپلائی بحال ہو جائے گی۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے بحران کی ایک بڑی وجہ درآمدی گیس کی عدم دستیابی ہے، جس سے ہزاروں میگاواٹ کی کمی پیدا ہوئی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ اس وقت ملک میں بجلی کی یومیہ طلب 15 سے 20 ہزار میگاواٹ کے درمیان ہے جب کہ قلت تقریباً 1500 میگاواٹ تک پہنچ رہی ہے۔ پن بجلی کی پیداوار بھی پانی کے کم اخراج کے باعث متاثر ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: پورا ملک بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ سے بری طرح متاثر ہے، حافظ نعیم الرحمان
ان کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کو اس وقت ریکارڈ 2160 میگاواٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے جو پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ حکومت ایل این جی کی درآمد کے لیے مسلسل کوشش کر رہی ہے اور توانائی کے شعبے میں بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
وزیرِ توانائی نے کہا کہ ڈیموں سے پانی کے اخراج میں اضافہ ہونے کے بعد پن بجلی کی پیداوار بھی بہتر ہو جائے گی۔ موجودہ صورتحال عارضی ہے اور آئندہ دنوں میں بجلی کی فراہمی میں واضح بہتری نظر آئے گی۔







