نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق ٹرسٹ کے نجی بینک اکاؤنٹ سے چھ کروڑ روپے سے زائد رقم جعلسازی کے ذریعے نکلوائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ واقعہ سامنے آنے پر گورنر ہاؤس نے فوری نوٹس لیتے ہوئے محکمہ ثقافت سندھ کو 13 اکتوبر کو لکھے گئے خط کے ذریعے انکوائری کی ہدایت جاری کردی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق محکمہ ثقافت کے مبینہ خط کی بنیاد پر نجی بینک سے لیجنڈ ٹرسٹ اکاؤنٹ کی چیک بک جاری کروائی گئی، جس کے بعد مختلف چیکس کے ذریعے رقم نکلوائی گئی۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے اس معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ گورنر یا گورنر ہاؤس کو لیجنڈ ٹرسٹ کے مالی معاملات یا چیک پر دستخط کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرسٹ کا سیکرٹری دراصل سیکرٹری برائے ثقافت حکومت سندھ ہوتا ہے، جو بینکنگ سمیت تمام مالی امور کا براہِ راست ذمہ دار ہے۔ جعلسازی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب وزیرِ ثقافت سندھ ذوالفقار شاہ کا کہنا ہے کہ لیجنڈ ٹرسٹ فنڈ سے چوری کے معاملے سے وزیرِ اعلیٰ سندھ اور چیف سیکرٹری کو آگاہ کر دیا گیا ہے اور اس کیس کی تحقیقات محکمہ اینٹی کرپشن کے ذریعے کرائی جائیں گی۔







