صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہے اور ایسے میں کاروباری سرگرمیوں کو محدود کرنا مسائل میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے،مہنگائی، توانائی کی بڑھتی قیمتیں، شرح سود میں اضافہ اور عوام کی کمزور قوت خرید جیسے عوامل پہلے ہی معیشت کو متاثر کر رہے ہیں۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کاروباری اوقات کار میں کمی سے نہ صرف مارکیٹوں میں خریدو فروخت متاثر ہوگی بلکہ اس سے مجموعی اقتصادی سرگرمیوں میں بھی سست روی آئے گی،پاکستان میں شام اور رات کے اوقات ریٹیل سیکٹر کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں کیونکہ زیادہ تر شہری اپنی مصروفیات کے بعد انہی اوقات میں خریداری کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کا سب سے زیادہ اثر چھوٹے تاجروں، دکانداروں اور درمیانے درجے کے کاروباروں پر پڑے گا جو پہلے ہی محدود منافع پر کام کر رہے ہیں،اگر کاروباری سرگرمیاں کم ہوئیں تو اس کے اثرات سپلائی چین، ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ شعبوں تک بھی پھیلیں گے، جس سے روزگار کے مواقع متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی محصولات کا انحصار بھی کاروباری سرگرمیوں پر ہوتا ہے، اس لیے اگر مارکیٹوں کے اوقات کم کیے گئے تو سیلز میں کمی آئے گی جس کا براہِ راست اثر ریونیو کلیکشن پر پڑے گا۔

انہوں  نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بزنس کمیونٹی توانائی بچت کے اقدامات کی مکمل حمایت کرتی ہے، تاہم ایسے فیصلے کیے جانے چاہئیں جو معاشی سرگرمیوں کو متاثر نہ کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ توانائی کے تحفظ اور کاروباری تسلسل کے درمیان توازن قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ مارکیٹوں کو کم از کم رات 10 بجے تک کھلا رکھنے کی اجازت دی جائے جبکہ دن کے اوقات میں کاروبار جلد شروع کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ قدرتی روشنی سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے اور بجلی کی بچت بھی ممکن ہو۔

انہوں  نے کہا کہ لاہور چیمبر اس سے قبل بھی حکومت کو توانائی کے مؤثر استعمال، شمسی توانائی کے فروغ اور کاروباری اوقات کار میں بہتری سے متعلق متعدد تجاویز دے چکا ہے، جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ کاروباری اوقات کار سے متعلق فیصلے یکطرفہ طور پر کرنے کے بجائے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے، تاکہ پالیسیاں زمینی حقائق کے مطابق ہوں اور ان پر مؤثر عملدرآمد ممکن ہو سکے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ کاروبار دوست پالیسیوں کو فروغ دیا جائے، کیونکہ سرمایہ کاری، روزگار اور ترقی کا دارومدار کاروباری اعتماد پر ہوتا ہے۔ حکومت اور بزنس کمیونٹی کے درمیان قریبی رابطہ ہی پائیدار اقتصادی بہتری کی ضمانت بن سکتا ہے۔