ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے انچارج عزیر شاہ کے مطابق اورنج لائن ٹرین، لاہور میٹرو بس، اسپیڈو بس سروس، اور دیگر شہری ٹرانزٹ منصوبوں پر اب مفت سفر کی سہولت ختم کر دی گئی ہے اور تمام مسافروں سے مقررہ کرایہ وصول کیا جائے گا، یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور کل سے تمام سروسز میں ٹکٹنگ کا نظام مکمل طور پر بحال کر دیا جائے گا۔

حکام کے مطابق یہ مفت سفری سہولت اپریل 2026 میں عوامی ریلیف پیکج کے تحت متعارف کرائی گئی تھی، جس کا ابتدائی دورانیہ ایک ماہ مقرر کیا گیا تھا،  اس پالیسی میں توسیع پر غور کیا گیا تاہم مالی اور انتظامی جائزوں کے بعد اسے مستقل جاری رکھنے کے بجائے ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اس مفت سفری سہولت کے دوران روزانہ لاکھوں شہریوں نے ماس ٹرانزٹ سسٹمز سے فائدہ اٹھایا۔ صرف لاہور کی اورنج لائن ٹرین پر یومیہ تقریباً 2 لاکھ 90 ہزار مسافر سفر کرتے رہے جبکہ میٹرو بس سروس میں ایک لاکھ سے زائد شہری بغیر کرایہ سفر کر رہے تھے۔ مجموعی طور پر لاہور، راولپنڈی اور ملتان میں یہ تعداد روزانہ تقریباً 8 لاکھ مسافروں تک پہنچتی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ایک عارضی ریلیف کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا، تاہم مالی بوجھ اور آپریشنل اخراجات کے پیش نظر اب اسے ختم کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں پہلی بار کرائے کی ای بائیکس متعارف کرانے کا فیصلہ

ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے مطابق کرایہ نظام کی بحالی سے نہ صرف نظام کو مالی طور پر مستحکم بنانے میں مدد ملے گی بلکہ سروس کے معیار اور دیکھ بھال کے امور میں بھی بہتری آئے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں عوامی سہولت کے لیے مزید پالیسی اقدامات پر بھی غور جاری رہے گا۔

فیصلے کے بعد شہریوں کو دوبارہ مقررہ کرایہ ادا کرنا ہوگا، جس کا اطلاق تمام ماس ٹرانزٹ منصوبوں پر یکساں طور پر ہوگا، مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر سے قبل کرایہ اور ٹکٹنگ نظام سے متعلق معلومات حاصل کریں تاکہ کسی بھی قسم کی دشواری سے بچا جا سکے۔

ادھر شہری حلقوں میں اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، کچھ افراد نے اسے مالی نظم و نسق کے لیے ضروری قرار دیا ہے جبکہ بعض شہریوں نے اسے عوامی ریلیف میں کمی کے طور پر دیکھا ہے۔