چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اپنے ردعمل میں کہا کہ سسٹم تو تھا ہی نہیں، سسٹم تب تباہ ہو گیا تھا جس دن لوگ اسے ڈیفالٹ موڈ میں لے گئے۔ سسٹم تب تباہ ہوا جب نئے پاکستان سے پرانے پاکستان میں لے جایا گیا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دو سیاسی جماعتیں اور ان کو لانے والے سسٹم کولیپس کے ذمہ دار ہیں۔ مہنگائی بڑھ گئی جبکہ امن و امان کی صورتحال بھی ابتر ہو گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں نے پاور شیئرنگ کی ترامیم کر کے اپنے کیسز ختم کیے۔ عوام کے ووٹوں سے حکومتیں آنی اور جانی چاہییں، جبکہ پارلیمنٹ بروقت اور درست فیصلے نہیں کر سکی۔

سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ محسن نقوی نے جو باتیں کیں، وہ اعترافِ شکست ہے۔ عمران خان اور ہم سے مذاکرات کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ اگر دعوت دی گئی تو ہماری طرف سے محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا کشمیر الیکشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ درست ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے اس حالت میں جانے کی وجہ یہ ہے کہ ایک چیز 70 سے 80 سال سے نہیں چل رہی۔ آپ 10 سال بعد بھی یہیں بیٹھے ہوں گے، تب بھی یہی مسائل ہوں گے۔

محسن نقوی نے کہا تھا کہ جس نظام میں ہم رہ رہے ہیں، وہ ناکام ہو چکا ہے، آپ مانیں یا نہ مانیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایڈمنسٹریٹو یونٹس، صوبے یا جو بھی نام دیں، انہیں عوامی سطح تک لے جانا پڑے گا۔ عام آدمی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے دھکے کھا رہا ہے، یہ سہولتیں اسے اپنے ہی علاقے میں ملنی چاہییں۔