تفصیلات کے مطابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور مسائل کے حل تک ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

بعد ازاں انہوں نے صدارت سنبھالنے سے متعلق پھیلنے والی افواہوں پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان جاری کیا۔

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی سے قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں نے ملاقات کی، جس میں پرو ہاکی لیگ کے دوران پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات سے انہیں آگاہ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق کھلاڑیوں نے اپنے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک اور انتظامی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی، جس پر محسن نقوی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

محسن نقوی نے کہا کہ ہاکی کھلاڑیوں کو ہر طرح کی سہولت فراہم کی جائے گی اور ہاکی کے معاملات کو منظم کرنے کے لیے مکمل تعاون کیا جائے گا۔ انہوں نے مصر میں ہونے والے عالمی کپ کوالیفائر ٹورنامنٹ کے لیے کھلاڑیوں کے ٹکٹ، کٹس اور ہوٹل میں قیام کے فوری انتظامات کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ قومی ہاکی ٹیم کا تربیتی کیمپ کل سے شروع کیا جائے گا اور آج رات تک تمام انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ ساتھ ہی زخمی کھلاڑیوں کے فوری علاج معالجے کے اخراجات پاکستان کرکٹ بورڈ خود برداشت کرے گا۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ کھلاڑی صرف کھیل پر توجہ دیں، باقی معاملات بورڈ سنبھالے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عزت سب سے پہلے ہے اور کسی صورت وطن کے وقار پر حرف نہیں آنے دیا جائے گا۔

اس موقع پر محسن نقوی نے چھ ملکی قومی ہاکی ٹورنامنٹ میں رنر اپ آنے پر اعلان کردہ دس، دس لاکھ روپے کے چیک بھی کھلاڑیوں میں تقسیم کیے۔

ہاکی کھلاڑیوں نے ملاقات اور حوصلہ افزائی پر چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کا شکریہ ادا کیا۔اس سے قبل پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں اور قومی ٹیم کے کپتان عماد بٹ پر دو سال کی پابندی عائد کر چکے ہیں، جس کے تحت وہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ہاکی نہیں کھیل سکیں گے۔

طارق بگٹی نے الزام عائد کیا تھا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے ہاکی کے لیے 25 کروڑ روپے جاری کیے، تاہم پرو لیگ کے فنڈز پاکستان اسپورٹس بورڈ کے پاس تھے، جو معاملات سنبھالنے میں ناکام رہا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہاکی فیڈریشن کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ وہ دورۂ آسٹریلیا کے تمام انتظامات خود کر سکتی۔ آسٹریلیا میں ہوٹل کی بکنگ کے لیے اسٹیٹ بینک نے رقم بروقت ادا نہیں کی اور دو ماہ کی مہلت طلب کی۔

طارق بگٹی نے آسٹریلیا میں قومی ہاکی ٹیم کے ساتھ پیش آنے والے بدانتظامی کے واقعے پر وزیرِاعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کمیٹی تشکیل دے کر تحقیقات کرانے کی درخواست بھی کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ چھ سال بعد پاکستان کی پرو لیگ میں شمولیت ہوئی ہے اور قومی ٹیم کی عالمی درجہ بندی 18 ویں سے بہتر ہو کر 13 ویں نمبر پر آ گئی ہے۔