رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ حکومت علاج کے طبی معاملات میں براہِ راست مداخلت نہیں کرتی، یہ فیصلہ متعلقہ میڈیکل اتھارٹیز نے کرنا ہوتا ہے۔ اگر پاکستان تحریک انصاف کسی مخصوص ڈاکٹر یا نجی اسپتال سے علاج کا مطالبہ کرتی ہے تو وہ یہ نکتہ سپریم کورٹ میں اٹھا سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جب تک عدالت اس حوالے سے کوئی واضح ہدایت جاری نہیں کرتی، حکومت اپنی جانب سے کوئی خصوصی اقدام نہیں کرے گی۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اس وقت ایک بڑا سرکاری ادارہ موجود ہے جہاں متعلقہ شعبے کے سربراہ ماہر ڈاکٹر موجود ہیں اور ان کی قابلیت پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر اپوزیشن کو کسی معاملے پر اعتراض ہے تو وہ عدالت سے رجوع کرے، علاج ڈاکٹروں نے کرنا ہوتا ہے، حکومت کا کام طبی فیصلے کرنا نہیں۔

سینیٹ میں ہونے والی بحث کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر سیاست کرنے کے الزامات لگائے گئے، تاہم زیرِ حراست رہنما کو تمام ضروری سہولیات اور طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور کسی قسم کی کمی کی نشاندہی نہیں کی گئی۔