لاہور میں جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں یومِ مزدور کے موقع پر تقریب منعقد ہوئی، جس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بڑی سیاسی جماعتیں مل کر عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھ رہی ہیں، جبکہ مڈل مین سسٹم کے ذریعے کرپشن کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، روزگار اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، مگر اس پر توجہ نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں مڈل کلاس اور غریب طبقہ زیادہ تر موٹرسائیکل استعمال کرتا ہے، لیکن انہی پر سب سے زیادہ ٹیکس کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت لیوی کی مد میں 500 ارب روپے تک ٹیکس وصول کر رہی ہے، جبکہ بااثر افراد اپنے قرضے اور ٹیکس معاف کروا لیتے ہیں۔
انہوں نے پٹرول کی قیمتوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں قیمت 250 روپے سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے، مگر حالیہ اضافے نے عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں ٹھیکیداری نظام کے باعث مزدوروں کا استحصال ہو رہا ہے۔ 12 گھنٹے کام کرنے کے باوجود انہیں مناسب معاوضہ نہیں ملتا، جبکہ 8 کروڑ مزدوروں میں سے بڑی تعداد رجسٹرڈ ہی نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ نظام پیچیدہ ہو چکا ہے اور مزدوروں کو تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق جب تک اس نظام کو چیلنج نہیں کیا جائے گا، محنت کشوں کا استحصال جاری رہے گا۔







