چھ اکتوبر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ مذاکرات ہوئے جن میں تجارت و سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، دفاع، تعلیم اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر بات چیت کی گئی۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دو طرفہ ملاقاتوں میں مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل پر اتفاق کیا اور وزرائے خارجہ کی سطح پر مشترکہ کمیشن کے اجلاس کے انعقاد پر بھی رضامندی ظاہر کی۔

دونوں ممالک نے دفاعی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور دفاعی صنعت، سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں علم و ٹیکنالوجی کے تبادلے کے ذریعے مزید تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

شفقت علی خان کے مطابق ملاقات میں فلسطینی عوام پر جاری مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے فلسطین کے حقِ خود ارادیت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

دورے کے دوران وزیرِاعظم شہباز شریف کو ملائیشیا کی ریاست پاہانگ کی ملکہ تُنکو عزیزہ امینہ میمونہ کی جانب سے وزیراعظم کو قیادت اور گورننس کے شعبے میں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی گئی۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق تین اکتوبر کو نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ سینیٹر اسحٰاق ڈار نے قومی اسمبلی کو پاکستان کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے اصولی مؤقف اور 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے بارے میں بتایا۔

انہوں نے وزیرِاعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات پر بھی روشنی ڈالی، جس میں انسدادِ دہشت گردی، پاک-انڈیا جنگ بندی، اور تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق ہوا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے غزہ جانے والے امدادی بحری بیڑے گلوبل صموڈ فلوٹیلا کی اسرائیلی افواج کے ہاتھوں غیر قانونی گرفتاری کی سخت مذمت کی۔

وزیرِخارجہ نے چار اکتوبر کو سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطے میں غزہ کی صورتحال، جنگ بندی کے امکانات اور پائیدار امن کے قیام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق سات اکتوبر کو سعودی عرب کے اعلیٰ سطحی تجارتی وفد نے پرنس منصور بن محمد السعود کی قیادت میں اسلام آباد کا دورہ کیا اور وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں سعودی وژن 2030 کے تحت سرمایہ کاری و تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔