وزیراعظم شہبازشریف کو شاہی پروٹوکول میں ان کی رہائش لایاگیا۔ ملائیشیا کے وزیراعظم انورابراہیم نے بھی وزیراعظم شہبازشریف کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملائیشیا آکرخوشی ہو رہی ہے، پرتپاک استقبال پرملائیشیا کے وزیراعظم کا شکریہ، اس دورے سے پاکستان ملائیشیا دوطرفہ تعلقات کو تقویت ملے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم ملائیشیا محمد انور ابراہیم کا کہنا تھا ہمارے خطے میں استحکام کے لیے پاک بھارت امن اہم ہے، دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے پاکستان سے ہر ممکن تعاون کریں گے۔ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے پاکستان سے ہر ممکن تعاون کریں گے۔
آسیان کے پلیٹ فارم سے معاشی ترقی حاصل کی جاسکتی ہے، پاکستان سے تجارتی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں، کاروباری تعاون بڑھانے کے لیے باہمی روابط کو فروغ دینا ہوگا، یقینی بنانا ہوگا کہ نجی شعبے میں کاروباری روابط بڑھانے کے لیے طے کیے گئے اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ملائییشا کے طویل دوستانہ تعلقات ہیں، انہوں نے اردو زبان میں کہا کہ ’دوستی کا ہاتھ کبھی خالی نہیں ہوتا‘، پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔
انور ابراہیم نے کہا کہ خطے میں تنازعات، ٹیرف کے مسائل اور موجودہ عالمی حالات میں ہمیں کیا فیصلہ کرنا چاہیے، میرے خیال میں ہمیں اندرونی طور پر استحکام اور کاروبار کے لیے سازگار حالات اور مواقع پیدا کرنے چاہئیں، آسیان خطے میں باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے کام کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اسلامی ممالک کی تنظیموں کے ذریعے باہمی طور پر مضبوط تجارتی تعلقات کو فروغ دےے سکتے ہیں، ہمیں خود کی بقا کے لیے تجارت اور اقتصادی تعلقات کو پھیلانا ہوگا، بلاشبہ پاکستان سے امت مسلمہ کو بہت سی امیدیں ہیں، تجارت اور سرمایہ کاری ہی ترقی کا راستہ ہے۔
ملائیشین وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے ملک میں ہزاروں پاکستانی طلبہ موجود ہیں، جو اچھے تعلقات کا عکاس ہے، ہمیں جارحانہ پالیسیاں اپنانی ہوں گی، تاکہ معاشی طور پر پھیلاؤ کو یقینی بنایا جاسکے، پاکستان ایسا ملک ہے، جس کی جانب سب کی نظریں ہوتی ہیں، انہوں نے قائداعظم اور علامہ اقبال کو بھی ان کے کارناموں کی بنیاد پر خراج تحسین پیش کیا۔انور ابراہیم کا کہنا تھا وقت کے ساتھ پاکستان اور ملائیشیا کے تعلقات مستحکم ہوئے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ملائیشیا کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہوئے والہانہ استقبال پر ملائیشین حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان اور ملائیشیاء کے درمیان بہترین تعلقات پائے جائے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ملائشیا کے وزیراعظم کی کتاب اسکرپٹ کی تعریف کی اور کہا کہ یہ کتاب اسلام آباد اور کوالالمپور کے درمیان پل کاکردار ادا کرے گی۔
شہباز شریف نے کہا کہ دورے سے تعلقات کو تقویت ملے گی، پاکستان سے 20 کروڑ ڈالر مالیت حلال گوشت کی برآمد کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہوں، حلال گوشت کی تجارت کو وقت کے ساتھ مزید بڑھائیں گے۔
انہوں نے ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے تجربے سے استفادے کیلیے مشترکہ منصوبوں کے خواہاں ہیں، ملائیشین ہم منصب انور ابراہیم نمایاں خصوصیات کے حامل شخصیت ہیں، دوطرفہ تعلقات سے متعلق انور ابراہیم کا دورہ پاکستان یادگار تھا۔
شہباز شریف نے کہا کہ وزیراعظم انور ابراہیم نے جس طرح گزشتہ چند سال میں ملائیشیا کے لیے جو کام کیا ہے، اور جس مقام پر اپنے ملک کو پہنچایا، وہ معجزہ ہے، ان کی قیادت میں ملائیشیا نے جو ترقی کی منازل طے کیں، یہ سفر قابل تعریف ہے، انور ابراہیم ماضی میں بھی اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں، ان کا وژن بہت وسیع ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق ہوچکا ہے، پاکستان اور ملائیشیا خلیجی ممالک کو افرادی قوت فراہم کر سکتے ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان سیاحت میں تعاون گیم چینجر ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کئی زرعی مصنوعات ملائیشیا کو برآمد کرتا ہے، ہماری زیادہ تر آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، مسائل کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ یہ مواقع بھی پیدا کرتا ہے، ہم اس چیلنج کو مواقع میں تبدیل کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سیاحت کے شعبے میں ملائیشیا کو پیشکش کرتا ہے، جہاں دنیا کے بہترین ریزارٹس ہیں، گلگت بلتستان، اسکردو، شمالی علاقوں کے حسین نظارے سحر انگیز ہیں، نانگا پربت، کے ٹو جیسی چوٹیاں بھی سیاحوں کے لیے کشش کا باعث ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان سستی افرادی قوت فراہم کرنے والا ملک ہے، جہاں سے خلیجی ممالک، وسطی ایشیائی سمیت دیگر ممالک میں لوگ ملازمتیں کر رہے ہیں، پاکستان کے میکرواکنامک اشاریے مثبت رہے ہیں۔
انہوں نے ذکر کیا کہ مہنگائی جو 36 فیصد کی سطح پر تھی، اب سنگل ڈیجٹ میں ہے، جب کہ شرح سود نصف کم ہوکر اب 11 فیصد ہوچکی ہے، یہ وہ عوامل ہیں جن سے معیشت کو استحکام کے حصول میں مدد ملی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ملائیشیا کو مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے، آئی ٹی، الیکٹرونکس، آئل اینڈ گیس، تانبے و دیگر شعبوں میں تعاون کے مواقع موجود ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، ملائیشیا کے سرمایہ کاروں کو خوش آمدید کہیں گے۔







