ذرائع کے مطابق یہ درخواست مئی 2026 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دائر کی گئی ہے، جس پر نیپرا 30 جون کو عوامی سماعت کرے گا۔ سماعت کے دوران بجلی کی پیداوار پر آنے والی لاگت، ایندھن کے استعمال اور دیگر تکنیکی عوامل کا جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

سی پی پی اے کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مئی کے دوران بجلی کی پیداوار پر اوسط فیول لاگت 9 روپے 25 پیسے فی یونٹ ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیاد پر صارفین سے اضافی رقم وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

 اگر نیپرا نے درخواست منظور کرلی تو ملک بھر کے بجلی صارفین پر مجموعی طور پر تقریباً 12 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ منتقل ہوگا۔ اس اضافے کے اثرات گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ صنعتی، تجارتی اور زرعی شعبوں پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس سے پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ ہر ماہ بجلی کی پیداواری لاگت کا جائزہ لے کر اس فرق کو صارفین کے بلوں میں ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب بجٹ 2026-27: اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

دوسری جانب عوامی حلقوں نے بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صارفین پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کے بجائے بجلی کے نظام میں موجود نقصانات اور گردشی قرضے کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

نیپرا کی جانب سے 30 جون کو ہونے والی سماعت کے بعد یہ واضح ہوگا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافے کی درخواست منظور کی جاتی ہے یا صارفین کو کسی حد تک ریلیف فراہم کیا جاتا ہے۔ تاہم فی الحال بجلی صارفین ممکنہ اضافے کے باعث ایک بار پھر بڑھتے ہوئے بلوں کی فکر میں مبتلا ہیں۔