اگست میں بجلی کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد آئندہ ماہ صارفین کو ایک ماہ کے لیے بجلی مہنگی ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگست میں بجلی کی اوسط پیداواری لاگت سات روپے 31 پیسے فی یونٹ رہی جبکہ گزشتہ ماہ کے مقابلے میں یہ بڑھ کر سات روپے 50 پیسے فی یونٹ تک پہنچ گئی۔

سی پی پی اے کی جانب سے جمع کروائی گئی دستاویزات کے مطابق اگست میں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو مجموعی طور پر 102 ارب چون لاکھ یونٹ بجلی فراہم کی گئی۔

مقامی کوئلے سے پیدا کی جانے والی بجلی کی لاگت 12 روپے ایک پیسہ فی یونٹ رہی جبکہ درآمدی کوئلے سے پیداوار کی قیمت 14 روپے سات پیسے فی یونٹ ریکارڈ کی گئی۔

فرنس آئل سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت 33 روپے فی یونٹ رہی گیس سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت 13 روپے 43  پیسے فی یونٹ ریکارڈ کی گئی۔

Image
 اگست میں بجلی کی اوسط پیداواری لاگت سات روپے 31 پیسے فی یونٹ رہی۔ (تصویر: آج نیوز)

ایل این جی کے ذریعے بجلی کی قیمت 21 روپے 73 پیسے فی یونٹ رہی جبکہ ایران سے درآمد کی گئی بجلی سب سے مہنگی 51  روپے فی یونٹ پڑی۔

بگاس سے پیدا کی گئی بجلی کی اوسط لاگت نو روپے 87 پیسے فی یونٹ رہی۔

واضع رہے کہ ذرائع کے مطابق نیپرا کی جانب سے سی پی پی اے کی درخواست پر فیصلہ آئندہ چند روز میں متوقع ہے اور اگر اس کی منظوری دی گئی تو صارفین کو ایک ماہ کے لیے بجلی کے بلوں میں اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔