نیپرا کے اعلامیے کے مطابق بجلی کی قیمت میں اضافہ ملک بھر کے صارفین پر لاگو ہوگا جبکہ کراچی الیکٹرک (کے الیکٹرک) کے صارفین بھی اس ماہانہ ایڈجسٹمنٹ سے متاثر ہوں گے۔

اس سے قبل سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے جون کی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں ایک روپے 20 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی تھی تاہم نیپرا نے 75 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی۔ مئی کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ میں بھی ملک بھر میں بجلی 34 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی تھی۔

سولر صارفین کے لیے نیپرا کے نئے قواعد

دوسری جانب نیپرا نے سولر توانائی کے فروغ کے لیے سولر ریگولیشنز 2026 میں ترمیم کر دی ہے جس کے تحت چھوٹے پیمانے پر شمسی توانائی پیدا کرنے والے صارفین کے لیے منظوری کا عمل آسان بنا دیا گیا ہے۔

نئے قواعد کے مطابق 25 کلو واٹ تک بجلی پیدا کرنے والے سولر صارفین کو اب نیپرا سے پیشگی منظوری لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنی (ڈسکو) ہی ایسے صارفین کی درخواستوں کی منظوری دے سکے گی جس سے سولر سسٹم لگانے کا عمل تیز اور آسان ہو جائے گا۔

یہ تبدیلی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب پاکستان میں بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں اور توانائی کے مسائل کے باعث گھریلو صارفین اور کاروباری ادارے تیزی سے سولر توانائی کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق نئے قواعد سے سولر نظام کی تنصیب میں حائل رکاوٹیں کم ہوں گی اور زیادہ لوگ قابل تجدید توانائی کے استعمال کی طرف راغب ہوں گے۔

پاکستان میں چھتوں پر سولر سسٹم لگانے کا رجحان گزشتہ چند برسوں میں نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ اندازوں کے مطابق ملک کے 15 سے 25 فیصد تک گھرانے کسی نہ کسی شکل میں شمسی توانائی استعمال کر رہے ہیں جن میں بنیادی روشنی کے نظام سے لے کر مکمل رہائشی سولر سسٹمز اور قومی گرڈ سے منسلک ہائبرڈ نظام شامل ہیں۔