خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سرکاری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ سیلاب نے ریاست کے متعدد علاقوں کو متاثر کیا ہے اور کئی دیہات کیچڑ اور پانی میں ڈوب گئے ہیں۔
سیلاب کے باعث ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرکے عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہونا پڑا ہے۔ دریاؤں میں طغیانی کے باعث گھروں کے ساتھ ساتھ زرعی زمینیں بھی زیرِ آب آگئی ہیں۔
حکام کے مطابق سیلابی پانی نے 14 ہزار ہیکٹر سے زیادہ زرعی اراضی کو متاثر کیا ہے، جو رقبے کے اعتبار سے پیرس شہر سے تقریباً ڈیڑھ گنا زیادہ ہے۔
اے ایف پی کے ایک صحافی نے سب سے زیادہ متاثرہ ضلع شیوا ساگر میں آدھے ڈوبے ہوئے مکانات، جڑ سے اکھڑے درخت اور کیچڑ میں پھنسی ہوئی گاڑیاں دیکھیں۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے جمعے کو ایک ویڈیو جاری کی جس میں وہ ایک 13 سالہ لڑکے کے والدین سے تعزیت کرتے دکھائی دیے۔ لڑکا سیلابی پانی میں اپنے پالتو کتے کو بچانے کی کوشش کے دوران ہلاک ہوگیا تھا۔
انڈیا کے وزیر صحت جے پی نڈا نے جمعرات کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تباہی کا پیمانہ بہت وسیع ہے اور معمول کی زندگی بحال ہونے میں وقت لگے گا۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایک کے بعد ایک گاؤں زیرِ آب آچکا ہے۔
آسام سمیت برصغیر کے بیشتر علاقوں میں جون سے ستمبر تک جاری رہنے والے مون سون کے دوران سیلاب ایک عام مسئلہ ہے۔ اس دوران انڈیا کا سب سے بڑا دریا برہم پتر اور اس کی متعدد معاون ندیاں اکثر طغیانی کا شکار ہوجاتی ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور ناقص منصوبہ بندی کے تحت ہونے والی ترقیاتی سرگرمیاں سیلاب کی شدت اور اس سے ہونے والے نقصانات میں اضافہ کر رہی ہیں۔
مقامی رہائشیوں اور حکام نے پڑوسی ریاست ناگالینڈ میں ہونے والی مبینہ غیر قانونی کوئلے کی کان کنی کو بھی سیلاب کی شدت میں اضافے کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس سرگرمی کے باعث ایسے علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں جہاں ماضی میں سیلاب کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔
وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے کہا ہے کہ وہ یہ معاملہ نئی دہلی میں مرکزی حکومت کے سامنے اٹھائیں گے۔
ماحولیاتی تنظیم کلائمیٹ ٹرینڈز کے مطابق آسام میں سیلاب کی بڑھتی ہوئی شدت عالمی حدت، دریاؤں کے قدرتی نظام میں تبدیلی اور انسانی آبادی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باہمی اثرات کا نتیجہ ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان عوامل کے باعث سیلاب زیادہ بار آنے کے ساتھ ساتھ زیادہ پیچیدہ اور مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔







