اجلاس کے بعد حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 16 اگست کو چاروں صوبوں میں بیک وقت دھرنوں کا آغاز کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی یوم آزادی کا جشن بھی بھرپور انداز میں منائے گی، جبکہ اس کے بعد 16 اگست سے ملک بھر میں دھرنے شروع کیے جائیں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر لاکھوں کارکنوں کے ساتھ دھرنا دیا جائے گا، جبکہ خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنے دیے جائیں گے۔
مزید یہ کہ دھرنوں کا مقصد عوامی مطالبات کے لیے آواز بلند کرنا اور حکومت کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
دوسری جانب حافظ نعیم الرحمان نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے دشمنوں پر پاکستان کا انحصار کم ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ دفاعی معاہدے میں قطر، بنگلہ دیش، ایران، ملائیشیا اور انڈونیشیا کو بھی شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے مزید ممالک کو ایسے تعاون کا حصہ بنانا باہمی دفاع اور علاقائی استحکام کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کیا ہے۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ پٹرولیم لیوی کے باعث عام شہریوں پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے، جبکہ حکومت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کے لیے جواز بناتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے گزشتہ روز احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ احتجاجی تحریک کے اگلے مرحلے میں چاروں صوبوں میں گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنے دیے جائیں گے۔
انہوں نے کارکنوں اور عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ بڑی تعداد میں دھرنوں میں شریک ہوں، جبکہ جماعت اسلامی نے احتجاج کے دوران ایمبولینسز اور ہنگامی سروسز کے لیے راستہ کھلا رکھنے کا بھی اعلان کیا تھا۔







