حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام پر عائد پٹرولیم لیوی اور اضافی ٹیکسز کے خلاف اپنی احتجاجی تحریک جاری رکھے گی۔

انہوں نے کارکنوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اتوار کو چاروں صوبوں میں گورنر ہاؤسز کے باہر بڑی تعداد میں پہنچیں اور احتجاج میں شریک ہوں۔
لاہور کے قرطبہ چوک پر سڑک بند احتجاج کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے شام چار بجے احتجاج کی کال دی تھی، تاہم سندھ کے نوجوان جمعے کی نماز سے پہلے ہی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

انہوں نے سندھ اور بلوچستان کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بھی 21 مقامات پر سڑکیں بند کی گئی ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ یکجہتی کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول جن لوگوں کو عوام نے مسترد کر دیا تھا، وہی فارم 47 کی وجہ سے ملک پر مسلط کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ آٹھ ماہ قبل مینار پاکستان پر انہوں نے سوال کیا تھا کہ حکمرانوں نے غریب عوام کے لیے کیا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حکمرانوں سے یہ بھی کہا تھا کہ اعلان کریں کہ وہ ناکام ہو چکے ہیں، کیونکہ نظام ناکام ہو چکا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آج پورا پاکستان سراپا احتجاج ہے، تاہم جماعت اسلامی نے احتجاج کے دوران کسی ایمبولینس کا راستہ نہیں روکا۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے پٹرولیم لیوی کو "ایک دھندہ" قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران کہتے ہیں کہ عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہے، لیکن عوام پر صرف پٹرول کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں بلکہ ٹیکس اور لیوی میں بھی اضافہ کیا گیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خسارے پورے کرنے کے لیے عام عوام پر بوجھ ڈال دیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پورے پاکستان میں جو لوگ انہیں سن رہے ہیں، وہ سمجھ لیں کہ پٹرول کی موجودہ قیمت ظلم ہے اور جماعت اسلامی اسے کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پورا دن پرامن احتجاج کیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے احتجاج کے شرکا سے سوال کیا کہ اگر وہ انہیں کال دیں کہ "آپ نے یہاں سے جانا نہیں"، تو کیا وہ سڑکوں پر بیٹھے رہیں گے؟
انہوں نے کہا ہے کہ چینگچی، اوبر ڈرائیورز، بائیکیا رائیڈرز، کسان اور طلبہ پٹرولیم لیوی کی صورت میں ٹیکس ادا کرتے ہیں، لیکن وزیراعظم شہباز شریف کو معلوم نہیں کہ یہ ٹیکس عوام کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔

لاہور میں احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ غریبوں کے بچے پھل نہیں کھا سکتے اور اب سبزی خریدنا بھی مشکل ہو گئی ہے، جبکہ غریب اور امیر کے لیے تعلیم کا نظام بھی الگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ محنت مڈل کلاس اور غریب عوام کرتے ہیں، جبکہ ٹیکس جاگیرداروں سے وصول کیے جاتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے موجودہ نظام کو "گندا اور بدبودار نظام" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ایسی ریاست نہیں چاہتی جہاں ڈنڈے کے زور پر بات کی جائے، بلکہ ایسی ریاست چاہتی ہے جہاں عوام کی بات سنی جائے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ "بندوق والے ادارے کا نام ریاست رکھ دیا ہے"، جبکہ ریاست کسی ایک ادارے کا نام نہیں۔ ان کے بقول، "ریاست آپ کا نام ہے اور میرا نام ہے۔"