این ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں سات بچے، تین خواتین اور پانچ مرد شامل ہیں۔ یہ جانی نقصان ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک کے مختلف حصوں میں پری مون سون بارشوں کا آغاز ہو چکا ہے، جب کہ مغربی ہواؤں کے سلسلے اور فضائی نمی کے باعث 6 جولائی تک وسیع پیمانے پر آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا امکان ہے۔
حکام نے مون سون کے اس سلسلے کے دوران بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ اور کھلے علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے کے خطرات کے پیش نظر وارننگ بھی جاری کی ہے۔
پنجاب میں اٹک کے مقام پر مکان کی چھت گرنے سے ایک خاتون اور دو بچوں سمیت تین افراد جاں بحق ہو گئے، جب کہ خوشاب میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔ اسی طرح پنجاب کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے دیگر حادثات میں سات افراد زخمی بھی ہوئے۔
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے بھی متعدد اموات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ نوشہرہ میں تیز ہواؤں کے دوران سولر پینل گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا، جب کہ بونیر میں ایک شخص آسمانی بجلی گرنے سے جان کی بازی ہار گیا۔ ضلع خیبر کی تحصیل بازار زاخہ خیل میں بھی آسمانی بجلی گرنے سے دو بچے جاں بحق ہو گئے۔
ہری پور، اپر دیر اور مانسہرہ میں ڈوبنے کے واقعات پیش آئے، جن میں بالترتیب دو بچے اور ایک شخص جاں بحق ہوئے۔ اس کے علاوہ شانگلہ میں تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث ایک خاتون لقمۂ اجل بن گئیں، جبکہ صوبے کے مختلف حصوں میں مزید 23 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
بلوچستان کے ضلع ژوب میں مکان کی چھت گرنے سے ایک خاتون اور ایک بچہ جاں بحق ہو گئے، جب کہ صوبے کے دیگر علاقوں میں مختلف حادثات کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے۔







