کراچی میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نام نہاد سیاست دان جمہوریت کے نام پر جمہوریت کو قتل کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جن سیاسی جماعتوں میں داخلی جمہوریت نہیں، وہی ملک پر حکومت کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں عوام مسلسل مشکلات میں مبتلا ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یہ کنسورشیم 25 کروڑ عوام کی بولی لگاتا ہے اور اس نظام سے نجات کے لیے طویل اور تیز جدوجہد ناگزیر ہے۔

انہوں نے قومی ائیر لائن کی تباہ حالی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جو ادارہ کبھی ملک کا فخر تھا، آج زوال کی ایک واضح مثال بن چکا ہے۔ پی آئی اے کو دانستہ طور پر تباہ کیا گیا اور اب اسی تباہی کو نجکاری کا جواز بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے اداروں میں لوٹ مار، کرپشن اور جعلی بھرتیاں کی گئیں، پھر جب ادارے خسارے میں گئے تو فیصلہ کیا گیا کہ ان سے جان چھڑا لی جائے۔ یہ نجکاری نہیں بلکہ قومی اداروں کی لوٹ سیل ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ حکومت ایک طرف نجی شعبے کے فروغ کی بات کرتی ہے لیکن دوسری جانب صنعتوں کو گیس، پانی اور بجلی کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جاتی۔ بھاری ٹیکسوں نے انڈسٹری کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔