حیدرآباد پریس کلب کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ حیدرآباد کی شامیں محبتوں اور اپنائیت سے بھرپور ہیں، ایسی شامیں کسی اور ملک میں دیکھنے کو نہیں ملتیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی مکتبہ فکر کے خلاف نفرت کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے اور ہمیشہ برداشت اور رواداری کے قائل رہے ہیں۔ وہ ایک سیاسی کارکن ہیں اور کبھی خود کو وڈیرہ نہیں سمجھا۔
مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ موجودہ حالات میں صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اپوزیشن پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیونکہ جب بحران پورے ملک کو ہلا رہے ہوں تو اپوزیشن کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہو جاتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما بانی پر جان قربان کرنے کی باتیں تو کرتے ہیں، مگر اپنی قائد کی شریکِ حیات کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اپوزیشن کو اپنا آئینی اور سیاسی کردار ادا کرنا چاہیے، جو اس وقت نظر نہیں آ رہا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے اپنے فرائض ادا کرنے کے بجائے تمام بوجھ ایک ادارے پر ڈال دیا ہے، حالانکہ ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو خود آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ اگر حکومت معاملات درست نہیں کر پا رہی تو اپوزیشن کو میدان میں آ کر ملک کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پیپلز پارٹی اشاروں کنایوں میں نہیں بلکہ ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنے پر یقین رکھتی ہے۔






